مادھو لال حسین (1538 تا 1599)

مادھو لال حسین
مشہور صوفی بزرگ حضرت شاہ حسین رح ٹکسالی دروازہ لاہور میں شیخ عثمان کے ہاں پیدا ہوئے۔ مادھو لال حسین کے والد پیشے کے لحاظ سے جولاہے کا کام کرتے تھے۔حفظِ قرآن اور دینی علوم حاصل کرنے کا سلسلہ چھتیس برس تک چلتا رہا یہاں تک کہ آپ کی ملاقات شیخ سعد اللہ نامی ملامتی صوفی سے ہو گئی جن سے علمِ تفسیر سیکھنے کے دوران جب اس آیت پر پہنچے کہ”اور دنیا کی یہ زندگی تو محض کھیل تماشا ہے۔۔۔۔۔(سورہ عنکبوت) تو شاہ حسین رح کی دنیا ہی بدل گئی۔ لمبا چغہ پہنے دیوانہ وار رقص کرتے گلیوں اور بازاروں میں آ گئے اور عمرِ عزیز کے بقیہ سال اسی جذب و مستی میں گزار دئیے۔قضا و قدر کے اسرار سے آشنا ہوئے، ترک اور تیاگ کی ابتدا ہوئی۔ دنیا فانی ہے اور اللہ کی رضا ڈھونڈنا آپ کی تعلیمات کا محور قرار پایا۔
روایتوں میں مادھو نامی ایک برہمن زادے کے ساتھ آپ کی محبت اور وابستگی کا ذکر ملتا ہے جس کی نسبت سے مادھو لال حسین کے نام سے مشہور ہوئے مگر محققین کے مطابق یہ داستان بعد میں ان سے منسوب کی گئی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ان کے کلام میں کہیں نہ کہیں مادھو کا ذکر ضرور ملتا۔
شاہ حسین رح نے عشقِ حقیقی میں ڈوب کر پنجابی زبان میں جو شاعری کی وہ مندرجہ ذیل خصوصیات کے لحاظ سے دیگر شعراء سے منفرد ہے
1: مادھو لال حسین پنجابی شاعری میں "کافی” کی صنف کے موجد ہیں۔
2: پنجابی کے اوّلین شاعر ہیں جنہوں نے ہجر و فراق کے اظہار کے لیے نسوانی زبان استعمال کی
3: اپنی کافیوں کی بنیاد راگ راگنیوں پر رکھی جس کی وجہ سے ان کے کلام کو سب سے زیادہ گایا گیا۔مائے نی میں کنوں آکھاں۔۔۔گھم چرخڑا سائیاں دا۔۔۔نی سیو اسیں نیناں دے آکھے لگے۔۔اور اس طرح کا اور بہت سا کلام مقبولیت کی آخری حدوں تک پہنچا۔
——
یہ بھی پڑھیں : اب کے لبوں پہ زرد ، تو آنکھوں میں لال بھر
——
4: سب سے پہلے داستانِ ہیر رانجھا کو عشقِ حقیقی کے لیے بطور تمثیل اپنے کلام میں استعمال کیا۔
5: اپنے پیشے کی روزمرہ استعمال کی چیزوں کو روحانی معانی عطا کر کے اپنی شاعری میں جگہ دی مثلاً چرخہ(جسم) سُوت(اعمال) تانا بانا (جسم کا اندرونی نظام،رگیں وغیرہ) وغیرہ،ان تشبیہات و استعارات کو آنے والوں نے اپنی شاعری میں خوب استعمال کیا۔
مادھو لال حسین کا مزار شالا مار باغ کے قریب باغبانپورہ میں ہے جہاں ہر سال میلہ چراغاں کے موقع پر آپ کا عرس منعقد ہوتا ہے۔

منتخب کلام
——۔۔۔
کدی سمجھ نداناں،گھر کِتھے ای،سمجھ ندانا
آپ کمینہ،تیری عقل کمینی،کون کہے تُوں دانا
اینہیں راہیں ڈٹھڑے جاندے،میر،ملک،سلطانا
آپے مارے تے آپے جیوالے،عزرائیل بہانا
کہے حسین فقیر سائیں دا،بِنا مصلحت اُٹھ جانا
نداناں: کم عقل، نادان
کِتھے: کہاں
کمینہ: گھٹیا، لالچی
اینہیں راہیں: انہی راستوں سے
ڈٹھڑے: دیکھے
جاندے: جاتے ہوئے
آپے: خود ہی
جیوالے: زندہ کرے، پیدا کرے
اے ناداں انسان غور کر کہ تیرا اصلی گھر اور ابدی ٹھکانہ کون سا ہے؟ تُو آخرت کو بھلا کر دنیا کی موہ مایا میں مبتلا ہے،افضل اور اشرف ہو کر ارذل اور گھٹیا درجے تک جا پہنچا ہے ایسے میں کون تجھے عقلمند کہے گا۔فرمانِ الٰہی ہے” کیا تم آخرت کے بدلے میں دنیا کی زندگی پر ہی ریجھ گئے ہو؟ دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں یونہی سی ہے”(سورہ توبہ 38)
دنیا میں مستقل قیام کسی کو نصیب نہیں ہوا، تمام شاہ و سلطان ایک ہی راستے سے موت کے سفر پر روانہ ہوتے دیکھے ہیں، کسی کا مال و زر اسے موت سے نہیں بچا سکا۔ وہ مالکِ حقیقی خود ہی پیدا کرتا ہے اور خود ہی موت طاری کر دیتا ہے، عزرائیل تو محض ایک نام اور بہانہ ہے، حکم اسی خالق کا چلتا ہے۔اللہ کا یہ درویش حسین کہہ رہا ہے کہ ایک دن بلاشبہ سب نے بغیر کسی عذر کے اس دنیا سے اٹھ جانا ہے۔
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
(میر تقی میر)
——
یہ بھی پڑھیں : دکھا دکھا کے وہ ہر نیک کام کرتے ہیں
——
عاشق ہوویں تاں عشق کماویں
راہ عشق دی سوئی دا نکّا، دھاگہ ہوویں تاں ہی جاویں
باہر پاک،اندر آلودہ، کیہا تُوں شیخ کہاویں
کہے حسین جے فارغ تھیویں، تاں خاص مراتبہ پاویں
عشق کماویں: عشق اختیار کر
سوئی دا نکّا : سوئی کا ناکہ
کیہا: کیسا
کہاویں: کہلوانا
فارغ تھیویں: فرصت، فراغت کا ملنا
مراتبہ: رتبہ، مقام
اس میں شاہ حسین رح عشقِ حقیقی کو مقصدِ حیات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر تُو نے عشق کرنا ہے تو اپنے رب سے عشق کر کہ یہی انسان کی اصل منزل اور معراج ہے مگر اس عشق کو اتنا آسان مت جان، عشق کی یہ گھاٹی سوئی کے ناکے کی طرح تنگ ہے اور عاشق کو اپنے نفس کو مار کر دھاگے کی مانند باریک اور ملائم ہوکر اس میں سے گزرنا پڑتا ہے۔جب عاشق کے دل میں محبوب کی محبت کے سوا کوئی محبت باقی نہیں رہتی تو وہ یہ مشکل مراحل بھی آسانی سے طے کر لیتا ہے۔
تُو اپنے آپ کو شیخ اور پارسا کہلواتا ہے جب کہ تُو منافقت سے بھرا ہوا ہے۔دکھاوے کے لیے ظاہر میں پاکبازی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے مگر تیرا باطن گناہوں سے لتھڑا ہوا ہے۔ یہ منافقت عشقِ حقیقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اللہ کا فقیر حسین کہہ رہا ہے کہ اگر تجھے دنیا کی محبت اور نفسانی خواہشات سے مکمل فراغت نصیب ہو جائے تو پھر اپنے خالق کی نگاہ میں خاص مرتبہ و مقام حاصل کر سکتا ہے۔تیری محبت صرف اللہ کے لیے خالص ہونی چاہیے۔ عشقِ حقیقی کے سلسلے میں حضرت رابعہ بصری رح کی مناجات بہت مقبول ہے۔
"اے میرے معبود! اگر میں تیری عبادت جہنم کے خوف سے کرتی ہوں تو مجھے نارِ جہنم کا لقمہ بنا دے۔ اگر میں تیری عبادت جنت کے لالچ میں کرتی ہوں تو مجھے ہمیشہ کے لیے محروم کر دے۔اگر میں تیری ذات سے صرف تیرے لیے محبت کرتی ہوں تو اے میرے مولا مجھے اپنے "جمالِ ازلی” سے محروم نہ کیجیو”
اسی مضمون کو غالب نے بیان کیا ہے۔
طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
دوزخ میں لا کے ڈال دے کوئی بہشت کو
——۔۔۔۔۔۔۔۔
وَت نہ دنیا آون
سدا نہ پُھلّے توریا،سدا نہ لگے ساون
ایہہ جوبن تیرا چار دیہاڑے،کوہے کو جُھوٹھ کماونھ
پیوکڑے دن چار دیہاڑے،البت ساہوڑے جاون
شاہ حسین فقیر سائیں دا، جنگل جائے سماون
وَت: پھر، دوبارہ
آون: آنا
پُھلّے توریا: سرسوں کے پھول کھلیں
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر جگت موہن لال رواں کا یوم وفات
——
ایہہ: یہ
جوبن: جوانی
دیہاڑے: دن
کوہے کو: کاہے کو، کس لیے
جُھوٹھ کماونھ: جھوٹ کمانا
پیوکڑے: میکہ، مراد ہے یہ دنیا
البت: آخر کار
ساہوڑے: سسرال، مراد آخرت کا گھر
اے انسان اس دنیا کو ابدی نہ سمجھ،یہاں سے جانے کے بعد دوبارہ آنا نصیب نہیں ہو گا۔دنیا کی رنگینی اور یہ گل و گلزار عارضی ہیں۔کھیتوں میں نہ تو ہمیشہ سرسوں پھولے گی اور نہ ہی ساون رُت کی یہ بہاریں دائمی ہیں، یہاں تک کہ تیرا حسن اور جوانی بھی چار دن کی ہے،آخر اسے ڈھلنا ہی ہے۔جب ہر چیز فانی ہے تو پھر تُو کس لیے جھوٹ فریب سے اپنا نامہء اعمال سیاہ کر رہا ہے؟اسی بات کو میاں محمد بخش رح نے کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے
سدا نہ باغیں بلبل بولے، سدا نہ باغ بہاراں
سدا نہ ماپے، حسن، جوانی،سدا نہ صحبت یاراں
اس لیے دنیا کو اپنا میکہ سمجھ کر چار دن گزار لے اور پھر ہر لڑکی کی طرح تجھے اپنی سسرال یعنی آخرت کے گھر رخصت ہو کر جانا ہے، اس کی تیاری ابھی سے شروع کر دے۔
حدیث شریف ہے
"دنیا میں ایسے رہو جیسے تم اجنبی ہو یا راستہ پار کر رہے ہو”
(البخاری، کتاب الرقاق)

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ