ماورائے عقلِ انساں شان و عظمت آپ کی

ماورائے عقلِ انساں شان و عظمت آپ کی

پھر بھلا کیسے بیاں ہو مجھ سے مدحت آپ کی

 

آپ کی ذاتِ مقدس نور کے پردوں میں ہے

ایک رب ہی جانتا ہے بس حقیقت آپ کی

 

آج بھی کافی ہے انساں کی ہدایت کے لیے

شُہرئہ آفاق ہے کامل شریعت آپ کی

 

آپ ہیں مالک خدا کی کُل خدائی کے حضور

کیوں نہ ہو میرے نبی ہر جا حکومت آپ کی

 

میرے سر کا تاج ہو اک آپ کی نعلینِ پاک

دل کی حسرت ہے کہ کر لوں میں بھی خدمت آپ کی

 

ہاشمؔ و احسانؔ ، قاسمؔ اور رضاؔ بھی با ادب

آپ کے قدموں میں آئیں ، پائیں جنت آپ کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا، ثنا نبیؐ کی جو لکھے کامل
شعرِ عقیدتِ نبی خوب عطا ہوا مجھے
آمنہ بی کا پسر، راج کنور، لختِ جگر
میں نے اشعار کہنے کی مانگی دعا
ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی
بے چین دل نے جس گھڑی مانگا خدا سے عشق
مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
مدحِ رسولؐ میں جو ہر گل پرو دیا ہے
آ وڑیا ترے شہر مدینے اک غمگین سوالی ھُو
دَرسِ قُرآں ہے برابر ہر ادا کا احترام

اشتہارات