اردوئے معلیٰ

ماورائے عقلِ انساں شان و عظمت آپ کی

پھر بھلا کیسے بیاں ہو مجھ سے مدحت آپ کی

 

آپ کی ذاتِ مقدس نور کے پردوں میں ہے

ایک رب ہی جانتا ہے بس حقیقت آپ کی

 

آج بھی کافی ہے انساں کی ہدایت کے لیے

شُہرئہ آفاق ہے کامل شریعت آپ کی

 

آپ ہیں مالک خدا کی کُل خدائی کے حضور

کیوں نہ ہو میرے نبی ہر جا حکومت آپ کی

 

میرے سر کا تاج ہو اک آپ کی نعلینِ پاک

دل کی حسرت ہے کہ کر لوں میں بھی خدمت آپ کی

 

ہاشمؔ و احسانؔ ، قاسمؔ اور رضاؔ بھی با ادب

آپ کے قدموں میں آئیں ، پائیں جنت آپ کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات