ماورا فہم و تخیل سے ہے رتبہ تیرا

ماورا فہم و تخیل سے ہے رتبہ تیرا

کیا کرے تیری ثنا بندۂ ادنیٰ تیرا

 

بحر عظمت کا ترے ایک جو قطرہ لکھدوں

وہ بھی ہوگا مرے معبود کرشمہ تیرا

 

تیری عظمت، تری رفعت، تری تقدیس لکھوں

کیسے ممکن ہے ملے گر نہ سہارا تیرا

 

ساری خلقت پہ خدایا ہے حکومت تیری

شرکت غیر کہاں صرف ہے قبضہ تیرا

 

شرق سے غرب تلک اور زمیں سے تا عرش

جو بھی موجود ہے سب کچھ تو ہے مولا تیرا

 

خشک و تر برگ و شجر ہیں ترے محتاج کرم

اک سمندر بھی نہیں جو نہ ہو پیاسا تیرا

 

اک نفس کے لئے دشوار تھا جینا اپنا

ہر نفس ہم پہ ہے اکرام مسیحا تیرا

 

تجھ کو پایا ہے نہ پائیں گے کبھی دست عدم

اپنی ہستی میں ہے انداز انوکھا تیرا

 

تیرے اک کن سے ترے دہر نے پایا ہے وجود

کچھ نہ رہ جائیگا جب ہوگا اشارہ تیرا

 

کون سی شے نہ ترے نام کی تسبیح پڑھے

کون عالم ہے وہ جس میں نہیں چرچا تیرا

 

تیرے مستوں کی نگاہوں سے تو دیکھے کوئی

ذرّے ذرّے میں نظر آئیگا جلوہ تیرا

 

ڈھونڈے در در وہ تجھے اور تو عالم سے ورا

کیوں نہ حیران پھرے ڈھونڈنے والا تیرا

 

کیا مرا دل تری رحمت کا سزاوار نہیں؟

کیا نہیں چاہتا مدت سے اجالا تیرا

 

ہم سیہ کار ہیں مجرم ہیں خطاوار بھی ہیں

مانا سب کچھ ہیں مگر ہے تو بھروسہ تیرا

 

عشق و عرفان کا اک جام پلا دے ساقی

کس سے فریاد کرے ہائے یہ تشنہ تیرا

 

کتنی آنکھوں کو وہ پیمانہ بنا دیتا ہے

عشق و مستی کا ہے میخانہ پلایا تیرا

 

اس کے سائے سے بچا جس پہ ہوا تیرا عتاب

اس سے محفوظ مجھے رکھ جو ہے مارا تیرا

 

کعبۂ دل کا کریں اسکے فرشتے بھی طواف

جسکا دل تیری تجلی سے ہو کعبہ تیرا

 

نورؔ کو بھیک دے اس نور مجسم کے طفیل

جانِ کونین ہے جو سب سے ہے پیارا تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

لکھوں پہلے حمدِ علیِ عظیم
آئی صبا ہے کاکلِ گل کو سنوار کے
ہے سلطانوں کا ایک سلطان ​
خُدا کا ذِکر دِل میں، آنکھ نم ہے
خدا کا ذکر، ذکرِ دل کشا ہے
ہے تو عظمت نشاں آقا و مولا
جو چڑیاں چہچہاتی ہیں، خدا کی حمد ہے وہ بھی
خدا دل میں، خدا ہے جسم و جاں میں
خدا تک گر نہ ہو میری رسائی
خدا کا اعلیٰ ارفع مرتبہ ہے

اشتہارات