اردوئے معلیٰ

مبارک عظیم آبادی کا یومِ وفات

آج معروف شاعر مبارک عظیم آبادی کا یومِ وفات ہے

مبارک عظیم آبادی(پیدائش: 29 اپریل 1896ء – وفات: 12 اپریل 1959ء)
——
نام مبارک حسین ، مبارک تخلص تھا۔ ۲۹؍اپریل ۱۸۴۹ء کو قصبہ تاج پور ،سابق سب ڈویژن دربھنگہ(بہار) میں پیدا ہوئے۔
فارسی کی درسی کتابوں کے بعد عربی کی صرف ونحو پڑھی۔ انٹرنس تک انگریزی بھی پڑھی۔ طب اور ہومیوپیتھی کا بھی مطالعہ کیا اور باضابطہ مطب کو روزی کا ذریعہ بنایا۔
شعرو سخن کی طرف اسکول ہی کے زمانے سے طبیعت راغب تھی۔ وہ پہلے حسن سہسرامی کو اپنا کلام دکھاتے رہے۔ اس کے بعد پریشان عظیم آبادی سے اردو اور فارسی میں اصلاح لیتے رہے۔
۱۸۹۲ء میں حضرت داغ کے شاگرد ہوئے اور تاحیات استاد سے مشورہ کرتے رہے۔ آخر عمر میں مبارک عظیم آبادی مالی پریشانیوں میں بری طرح پھنس گئے تھے۔ ہند سرکار کی طرف سے ان کی علمی صلاحیت اور شاعری کی شہرت کی وجہ سے ایک سو روپیہ ماہانہ اعزازی وظیفہ تاحیات ملتا رہا۔
وہ ۱۲؍اپریل۱۹۵۸ء کوانتقال کرگئے۔ ان کا منتخب اردو دیوان ’’جلوۂ داغ ۱۹۵۱ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے سے قبل ۱۹۳۵ء میں ’’مرقع سخن ‘‘ (حصہ اول ودوم) کی اشاعت ہوئی۔ اگست ۱۹۹۹ء میں کلیات مبارک عظیم آبادی بھی چھپ گئی ہے۔
——
تفریظ از نوح ناروی ، کتاب : جلوۂ داغ
——
میں جناب مبارک عظیم آبادی تخلص عظیم آبادی کو اس وقت سے جانتا ہوں جب میں حیدر آباد دکن میں مقیم تھا ۔ اور ان کی غزلیں اصلاح کے لیے نواب فصیح الملک حضرت داغؔ دہلوی کے پاس جاتی تھیں اور اصلاح کے بعد میں انہیں واپس کرتا تھا ۔
یہ 1903 ء اور 1904 ء کی بات ہے ۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ کتنے کہنہ مشق ہیں ۔
یہ تو میں نہیں بتا سکتا کہ مبارک عظیم آبادی کب داغؔ کے شاگرد ہوئے لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ان کا نام اس جماعت میں ہے جس میں حضرت بیخودؔ دہلوی ، حیات بخش صاحب رساؔ ، مولانا حسن رضا خانؔ ، حسنؔ بریلوی ، مشرف یار خاں صاحب شرفؔ ساکن جاورہ ، فیروز خاں صاحب فیروزؔ ، محمود خاں صاحب محمودؔ رامپوری ، آغاؔ شاعر صاحب دہلوی ، سید شبیر حسن صاحب نسیمؔ بھرتپوری اور بیخودؔ بدایونی وغیرہ کے اسمائے گرامی نظر آتے ہیں ۔
حیدر آباد کے قیام میں میرے تعلق یہ خدمت تھی کہ جو غزلیں اصلاح کے لیے باہر سے ڈاک پر حضرتِ داغؔ کے پاس آئیں میں انہیں کو سناؤں اور جو وہ اصلاح فرمائیں اسے اپنے ہاتھوں سے لکھ کر واپس بھیج دوں ۔
اس صورت میں ہر شاگرد اور ہر شاگرد کے مراتب سے مجھ سے زیادہ کون واقف ہو سکتا ہے ۔
افسوس ہے کہ داغؔ صاحب کے شاگرد کیسے کیسے قابل تھے لیکن پہلی جماعت کے سب لوگ اٹھ گئے ۔ جو باقی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سلامت با کرامت رکھے ۔ آمین
——
یہ بھی پڑھیں : اشفاق احمد کا یوم پیدائش
——
میں نے اس زمانے میں یہ بھی دیکھا ہے کہ مخصوص شاگردوں کے کلام میں بہت کم اصلاح ہوتی تھی ۔ اصلاح کی دو قسمیں ہیں ایک تو استاد شاگرد کے کلام کو سامنے کے عیوب و نقائص سے پاک کر دے دوسرے یہ کہ صحیح اشعار میں کوئی ایسا لفظ تبدیل کر دے جس سے معنوی خوبی پیدا ہو اور شعر کا معیار بلند تر ہو جائے ۔
چنانچہ ڈاکٹر صاحب کے کلام پر بھی ایسی ہی اصلاح ہوتی تھی ۔ سامنے کے عیوب یا روزمرہ کے نقائص میں نے ان کے کلام میں اس وقت بھی نہیں دیکھے اور اس زمانے کا تو کیا کہنا اب تو ان کا شمار اساتذہ میں ہوتا ہے ۔ جو کچھ یہ کہہ دیں اس کو سند سمجھنا چاہیے ۔ ان کا فرمودہ پتھر کی لیکیر ہے جو مٹانے سے مٹ نہیں سکتا ۔
جب شاعر بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی شاعری جوان ہوتی ہے چنانچہ یہ بوڑھے ہیں اور ان کی شاعری جوان ہے ،
حیدر آباد کی واپسی پر میں صوبہ بہار کے مشاعروں میں بیش تر آیا گیا ہوں ۔ سب سے پہلے میری ملاقات ان سے جناب سید حامد حسین صاحب حامدؔ سجادہ نشیں درگاہ حضرت سید شاہ ارزاں صاحب رح عظیم آبادی کے مشاعرے میں ہوئی یہ ملنے کی طرح مجھ سے اور میں ان سے ملا ۔ یہ میں نے استاد کے شاگردوں میں یہ خاص بات دیکھی ہے کہ جہاں آپس میں ملنے کا موقع ملا اس طرح ملتے تھے جیسے دو حقیقی بھائی ملتے ہوں ۔
اس مشاعرے کے بعد آرہ، دانا پور گیا ۔ مظفر پور وغیرہ کے مشاعروں میں برابر ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔ اور تبادلۂ خیالات برابر ہوتا رہا ۔ بہت سے شعر ان کے سنے اور اپنے سنائے ۔
اس درمیان میں البتہ کئی سال ملاقات نہیں ہوئی ۔ وہ بھی بوڑھے ہیں ۔ میں بھی ضعیف ہوں ۔ خدا جانے کس وقت کون اس دنیا سے اٹھ جائے ۔ تمنا ہے کہ پھرکوئی ایسی صورت نکلے کہ وہ مجھ سے ملیں اور میں بھی انہیں دیکھ لوں ۔
الغرض ان کے کمال شاعری کے متعلق جو کچھ میری رائے ہو گی وہ کسی طرح غلط نہیں ہو سکتی ۔ میرا یہ دعویٰ ہے کہ جملہ محاسن شاعرانہ ان کے کلام میں موجود ہیں یہ بیک وقت غزل ، قصیدہ ، رباعی ، قطعہ ، مخمس ، ترجیع ، بند وغیرہ سب کچھ کہہ سکتے ہیں ۔
قدرت نے انہیں شاعر پیدا کیا ہے اور پھر مشقِ سخن نے انہیں ایسے بلند مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں ہر شاعر نہیں پہنچ سکتا ۔
یہ شعر کہتے وقت ہمیشہ خیال رکھتے ہیں کہ استاد کا رنگ جانے نہ پائے ۔
وہی بندش ، وہی ترکیب ، وہی لفظوں کا رکھ رکھاؤ ، وہی محاکات ، وہی دلی کی ٹکسالی زبان ، وہی روزمرہ ، وہی بول چال ، سب ان کے کلام میں ہے جن کے باعث سے داغؔ صاحب کا کلام اس قدر مقبول و خاص ہے ۔
آج مجھے بے حد خوشی ہے کہ میں یہ سن رہا ہوں کہ ان کا کلام دیوان کی صورت میں طبع ہو کر منظرِ عام پر آنے والا ہے ۔ میں نے جو باتیں اوپر لکھی ہیں اُن کی اب بخوبی تصدیق ہو جائے گی اور مجھے یہ فخر کے ساتھ کہنے کا موقع ملے گا کہ میں نے کتنی سچی باتیں لکھیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : محبت ان کی، دل میرا، ثنا ان کی، زباں میری
——
اب اللہ سے میری دعا ہے کہ استاد کے دیوانوں کی طرح یہ دیوان بھی مقبول ہو اور مبارکؔ صاحب بہت دنوں تک زندہ رہ کر اسی طرح ادب کی خدمت کرتے رہیں ۔ آمین ۔
——
منتخب کلام
——
یہ غمکدہ ہے اس میں مبارکؔ خوشی کہاں
غم کو خوشی بنا کوئی پہلو نکال کے
——
ہماری بندگی کا پوچھنا کیا
تمہاری بندگی ہے اور ہم ہیں
——
میرے دید و دل کی چوری تو دیکھو
تمہیں لے چلے ہیں بھری انجمن سے
——
لپکا ہے محتسب کو بہت دار و گیر کا
اللہ ہی ہے بس میرے دورِ اخیر کا
——
خدا جانے کہاں سے کھچ کے میخانے میں آتی ہے
خبر اتنی تو ہے شیشے سے پیمانے میں آتی ہے
——
فصلِ خزاں میں بھی جو پئے جا رہا ہوں میں
موسم کو خوشگوار کئے جا رہا ہوں میں
——
حکمت تو دیکھیے یہ حکومت تو دیکھیے
دل کا سوال کرتے ہیں آںکھیں نکال کر
——
یہ کیا کہا کہ زیرِ زمیں چین آئے گا
کیا میرے ساتھ میری تباہی نہ جائے گی
آئے گا چین یا کہ نہ آئے گا ہجر میں
جائے گی یہ تڑپ کہ الہٰی نہ جائے گی
——
پھر بڑھ رہا ہے ہاتھ گریبان کی طرف
پھر آ رہی ہے فصلِ بہاری قریب کیا
——
مجنوں کہاں ہے دشت سے آتی ہے یہ صدا
تیشہ پکارتا ہے کدھر کوہکن گیا
——
آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے
فصل گل جاتی ہے سامان بہار اٹھتا ہے
شیخ بھی مضطرب الحال پہنچ جاتا ہے
جانب مے کدہ جب ابر بہار اٹھتا ہے
مرحبا بار امانت کے اٹھانے والے
کیا کلیجہ ہے تمہارا کہ یہ بار اٹھتا ہے
خار صحرائے محبت کی کھٹک کیا کہیے
جب قدم اٹھتا ہے اپنا سر خار اٹھتا ہے
دود آہ دل سوزاں ہے مبارکؔ اپنا
جو دھواں شمع سے بالین مزار اٹھتا ہے
——
تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموش
یہ بھول نہیں ہوتی مری جان فراموش
محراب عبادت خم ابرو ہے بتوں کا
کر بیٹھے ہیں کعبے کو مسلمان فراموش
آباد رہے شاد رہے یاد تمہاری
مجھ سے نہیں ہونے کی کسی آن فراموش
کب بھولتے ہیں پاؤں مرے دشت نوردی
کرتے ہیں کہاں ہاتھ گریبان فراموش
——
دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہے
کچھ کھیل تماشائے لب بام نہیں ہے
میں معترف جرم ہوں جو چاہو سزا دو
الزام تمنا کوئی الزام نہیں ہے
وہ صبح بھی ہوتی ہے شب تار سے پیدا
جس کو خطر تیرگئ شام نہیں ہے
جو دل ہے وہ لبریز تمنا ہے مبارکؔ
اس جام سے اچھا تو کوئی جام نہیں ہے
——
لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاس
اب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاس
میں تو ہر ہر خم گیسو کی تلاشی لوں گا
کہ مرا دل ہے ترے گیسوئے خم دار کے پاس
تو تو احسان جتاتی ہوئی آتی ہے صبا
یوں بھی آتا ہے کوئی مرغ گرفتار کے پاس
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ