اردوئے معلیٰ

Search

متن میں ہو جو ذکرِ نبی ضوفشاں

خود ہی ہو جائے گی شاعری ضوفشاں

 

عرشؔ* نے شعر کہنے کی ترغیب دی

آمدِ مدحِ آقا ہوئی ضوفشاں

 

دھیان طیبہ کی جانب گیا جب مرا

ہو گیا قریۂ قلب بھی ضوفشاں

 

اُن کی آمد سے پہلے اندھیرا ہی تھا

وہ جو آئے تو دنیا ہوئی ضوفشاں

 

ایک نقشِ نُخستیں کی تنویر سے

بزمِ کونین بھی ہو گئی ضوفشاں

 

شاہ کے سارے اصحابؓ انجم بنے

کر گئی آپ کی پیروی ضوفشاں

 

سبز گنبد نگاہوں میں بستا گیا

دل کی دنیا بھی ہوتی گئی ضوفشاں

 

پھول حُبِ نبی کے کھلے قلب میں

ہو گئی سب کہی اَن کہی ضوفشاں

 

میں عزیزؔ اپنے بختِ رسا پر فدا

ہو گیا دل میں نامِ نبی ضوفشاں

 

٭ریاض الاسلام،عرش ہاشمی۔معروف نعت گو شاعر اور’’محفلِ نعت‘‘ اسلام آباد
کے سیکریٹری ہفتہ ۲۱؍جمادی الاول۱۴۳۳ھ …۱۴؍اپریل۲۰۱۲ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ