اردوئے معلیٰ

مجھ غم زدہ پہ جود و کرم کر دیئے گئے

مجھ غم زدہ پہ جود و کرم کر دیئے گئے

سب دور دل سے رنج و الم کر دیئے گئے

 

کچھ صورتِ نعوت لبوں کو عطا ہوئے

کچھ حرف میرے دل پہ رقم کر دیئے گئے

 

نظریں، سرِ نیاز، جبیں، روح اور دل

سنگِ درِ حضور پہ خم کر دیئے گئے

 

مہکا ہوا ہے جن سے مری فکر کا جہاں

وہ حرفِ ثنا قلب میں ضم کر دیئے گئے

 

آقا، حسن، حسین، علی، دخترِ نبی

یہ پانچ نام روح پہ دم کر دیئے گئے

 

واقف وہی ہیں لذتِ ہجر و فراق سے

جو لوگ مشتِ خاکِ عجم کر دیئے گئے

 

ٹھنڈی ہوائیں آئیں جہاں سے حضور کو

اس ارضِ بخت یار سے ہم کر دیئے گئے

 

میلاد کا یوں جشن منایا کریم نے

ہر سمت نصب سبز علم کر دیئے گئے

 

اشفاق در بدر تھے مرے فکر و فن، مگر

پھر نعت دے کے سُوئے حرم کر دیئے گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ