اردوئے معلیٰ

مجھ پرِ کاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

مجھ پرِ کاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

اسیرِ راہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

 

وہ جس نے ساری ہواؤں کے رُخ بدل ڈالے

اسی نگاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

 

جو دیکھ آتے ہیں اک بار جالیاں ان کی

آرامگاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

 

وہ یارِ غار جو آقا پہ جان دیتا تھا

رفیقِ شاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

 

جہاں سے پڑھ کے اٹھے عُمر اور علی سے زعیم

ہاں! خانقاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

 

غنی نے جس کو خریدا بحکمِ شاہِ رُسل

کہو تو چاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

 

جو بات کرتے ہیں اسدالرسول حمزہ کی

وہ کج کلاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

 

کریں جو بات کہِیں عَمرو، سعد و خالد تو

جلال و جاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

 

وہ جس نے قیصر و کسری کو خاک چٹوائی

اُسی سپاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

 

کہیں پہ روکنا پڑ جائے ذکر تو تنہا

وہیں سے ماہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ