مجھ پر بڑا کرم ہے یہ رَب کی جناب کا

مجھ پر بڑا کرم ہے یہ رَب کی جناب کا

مدح سرا ہوں میں جو رِسالت مآب کا

 

اُن کی حقیقتوں سے کوئی آشنا نہیں

پَرتَو ہے حُسنِ دُنیا بھی اُن کے شباب کا

 

سب کو بچائیں گے شہِ والا ہی دیکھنا

جب تذکرہ چِھڑے گا حساب و کتاب کا

 

اُن کی محبتوں کا یہ فیضان ہی تو ہے

سینہ بنا ہوا ہے مِرا جو گُلاب کا

 

اُن کی رضاؔ سے میں بھی مدینے کا با ادب

خادم بنوں گا عُمر بھر اُن کی جناب کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا رب ترے محبوب کا جلوا نظر آئے
دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو
ان کے نام پاک پر مرجائیے
وہ اعلی و اولی ، ہمارے محمد
دِلا ہم کو محمد کی حمایت ہے تو کیا غم ہے
آنے والو یہ بناوؔ شہرِ مدینہ کیسا ہے
چمک چمک کے ستارے سلام پڑھتے ہیں
در جاں چو کر منزل، جانانِ ما محمد
خامشی ، غارِ حرا ، دِل میرا
اُنہی کا نور پھیلا ہے جدھر دیکھو جہاں دیکھو