محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے

محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے

وابستہ جو ہوئے ہیں ترے شہرِ نُور سے

 

جب تجھ سے مانگنی ہے شفاعت کی خیرِ کُل

تجھ کو ہی مانگ لیں گے خُدائے غفور سے

 

ہے اُن کے دستِ ناز میں میری فلاحِ جاں

خوف و خطر نہیں مجھے یومِ نشور سے

 

کرتا رہے گا عہدِ محمد کا ہی طواف

چھنتا ہُوا جو نُور ہے چشمِ عصور سے

 

اُن کے لیے ہی مجلسِ میثاق تھی بپا

کُن کا ہُوا ظہور اُنہی کے ظہور سے

 

رہتی ہے روح گنبدِ خضریٰ کے آس پاس

اِک دوستی سی ہے مری تیرے طیور سے

 

اے عازمِ مدینہ ! مبارک تجھے، مگر

لے جا سلامِ عجز دلِ ناصبور سے

 

ویسے تو آنکھ میں ہے وہ شہرِ نظر نواز

دیکھیں تو جیسے دِکھتا ہو احساس دُور سے

 

تابِ نظر نہیں تھی، مگر ہو گیا کرم

لایا ہُوں روشنی مَیں عطا کے وفور سے

 

ممکن نہیں حروف سے تخلیق نعت کی

کھِلتا ہے یہ گُلاب، کرم کی مطور سے

 

مقصودؔ اُن کی نعت کے منظر عجیب ہیں

ہیں ماورا یہ سلسلے حدِ شعور سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات