مخزنِ جود و سخاوت ہیں علی ہجویری

مخزنِ جود و سخاوت ہیں علی ہجویری

منبعِ علم و کرامت ہیں علی ہجویری

 

میرے سرکار کی ہے خاص عنایت ان پر

اس لیے مرجعِ خلقت ہیں علی ہجویری

 

روزِ محشر کا نہیں خوف و خطر یوں مجھ کو

میری بخشش کی ضمانت ہیں علی ہجویری

 

بادشاہو ! یہ خزانہ ہو مبارک تم کو

میری دولت، مری ثروت ہیں علی ہجویری

 

کشفِ محجوب کی ہر سطر یہی کہتی ہے

بحر ذخارِ طریقت ہیں علی ہجویری

 

لوحِ ادوار پہ لکھا ہے بعنوانِ جلی

بزمِ اقطاب کی زینت ہیں علی ہجویری

 

دونوں عالم میں مجیبؔ اپنے غلاموں کے لیے

سر بسر پیکرِ رحمت ہیں علی ہجویری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ