مدت پہ گاؤں پہنچا تو بدلا ہوا ملا

مدت پہ گاؤں پہنچا تو بدلا ہوا ملا

شہروں کا رنگ اس پہ بھی چڑھتا ہوا ملا

 

دیکھا تو اعتماد کے رشتے اداس تھے

اپنوں سے آج اپنا بھی ڈرتا ہوا ملا

 

چھوٹی سی کوٹھڑی میں بھرا گھر سمٹ گیا

یوں خاندان شہر میں بستا ہوا ملا

 

اس کے نئے فلیٹ کا کمرہ عجیب تھا

سورج کی روشنی کو ترستا ہوا ملا

 

سلجھانے جس کے پاس گیا اپنی الجھنیں

خود اپنے مسئلوں میں وہ الجھا ہوا ملا

 

گھر آیا جب تو ساری تھکن دور ہو گئی

چہرہ غریب بیوی کا ہنستا ہوا ملا

 

دل کا چراغ راہِ تمنا میں دوستو

جلتا ہوا ملا ، کبھی بجھتا ہوا ملا

 

پہچان کر متینؔ وہ پہچانتا نہ تھا

دریا نئے مزاج کا امڈا ہوا ملا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ