مدحتِ شاہِ دو عالم کا ثمر کیا کہنے!

مدحتِ شاہِ دو عالم کا ثمر کیا کہنے!

مجھ پہ اللہ کی رحمت کا اثر کیا کہنے!

 

پوچھ لو زائرِ طیبہ سے بہت پیارا ہے

ساری دنیا سے مدینے کا سفر کیا کہنے!

 

آپ کی جشنِ ولادت کی خوشی میں آقا

رب نے بخشے سبھی ماؤں کو پسر کیا کہنے!

 

ساری دنیا میں کہیں اور نہیں ہے بے شک

خلد سے بڑھ کے مدینے کا نگر کیا کہنے!

 

آپ کے ہاتھ اُٹھے ٹوٹ گیا چاند آقا

دوڑ کر آیا سلامی کو شجر کیا کہنے!

 

میری راہوں میں بچھاتے ہیں ملائک تارے

پیارے آقا کی اطاعت کا ثمر کیا کہنے!

 

اے رضاؔ حرمتِ آقا پہ فدا جاں اپنی

جس نے کی ہو گیا دنیا میں امر کیا کہنے!

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دِل میں یادِ نبیؐ کا ڈیرا ہے
وہ جو محبوبِ ربّ العالمیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے
میرے آقا، میرے مولا، میرے رہبر آپؐ ہیں
ہر گھڑی اک یہی ہے لگن یا نبی
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
کوئے رشکِ ارم کا ارادہ کروں
یقیں میں ڈھلتا نہیں ممکنات کا پرتَو
آنکھ کو چھُو کے پسِ حدِ گماں جاتی ہے
ذکرِ رحمتِ مآب ہو جائے
اٹھانا ہے جو برکت زندگی بھر

اشتہارات