مدحت ہو تری کیسے کہ دشوار بیاں ہے

 

مدحت ہو تری کیسے کہ دشوار بیاں ہے

محدود مری سوچ تو محدود زباں ہے

 

جب سے ہے مرا رابطہ اُس شاہِ اُممؐ سے

پُرنور مرا دل ہے، منور مری جاں ہے

 

طیبہ میں رہوں موت اُسی شہر میں آئے

بس اِک یہی ارمان مرے دل میں نہاں ہے

 

ڈھلنے لگے جذبات مرے نعت کی صورت

ہے ذکر ترا اور مرے اشکوں سے رواں ہے

 

اِک لمحہ مجھے چین نہ تسکین نہ آرام

آقاؐ کی جدائی مجھے کس درجہ گراں ہے

 

اشعرؔ مری نظروں میں ہے دیدار کا عالم

ہر وقت مرے دل میں زیارت کا سماں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ خانۂ نبی ہے ، یہاں زر نہ مال ہے
اللہ، غنی کیسی وہ پر کیف گھڑی تھی
مدینے کی مٹی ہے سب سے نرالی
سینئہ ہستی روشن روشن کاہکشاں ہے جگمگ جگمگ
مر کے اپنی ہی اداوؔں پہ امر ہو جاوؔں
توصیفِ نبی کرتا رہوں بس ایسے گزر دن رات کروں
توں سلطان زمانے بھر دا میں بردے دا بردا
راہوں میں تیرگی سہی، نُور الہدیٰ تو ہے
جو مقدس ہے زمانے میں مگر دیکھا ہے
پائوں تھک جائیں گے جب رہِ عشق میں سر تو کیا ہے بہ قلب و نظر جائیں گے