مدینہ دیکھے بنا ہی کہیں نہ مر جائیں

مدینہ دیکھے بنا ہی کہیں نہ مر جائیں

گدائے عشق چلو آؤ ان کے در جائیں

 

اٹھائے بوجھ گناہوں کا اپنے کاندھوں پر

شکستہ پا ہی سہی لے کے چشمِ تر جائیں

 

صبا تو گنبدِ خضرا پہ عرض کردینا

ہمیں بھی اذن ملے رحمتوں کے گھر جائیں

 

تو اس سے بڑھ کے سعادت بھی اور کیا ہوگی

نصیب نعت کے صدقے میں جو سنور جائیں

 

درود پاک کی برکت ہے یہ سفینے کو

ادب سے راستہ دیتے ہوئے بھنور جائیں

 

ہزار شکر عطا اس طرح حضورؐی ہو

نصیب ہو وہی مٹی وہیں پہ مر جائیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اُنؐ کے رستوں کی گردِ سفر مانگنا
مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے
مری زبان پہ ان کی ہے گفتگو اب تک
سطوتِ شاہی سے بڑھ کر بے نوائی کا شرَف
اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم
مرا دل تڑپ رہا ہے
بنایا ہے حسیں پیکر خدا نے مشک و عنبر سے
ان کے در کا جس گھڑی سے میں گداگر ہوگیا
ارض و سما میں جگمگ جگمگ لحظہ لحظہ آپ کا نام
وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں