مدینے میں عجب ہی صورتِ جذبات ہوتی ہے

 

مدینے میں عجب ہی صورتِ جذبات ہوتی ہے

مسلسل اشک بہتے ہیں ، مسلسل نعت ہوتی ہے

 

بچشمِ سر یہ دیکھا ہے نبی کے شہر میں ہم نے

خدا کی رحمتوں کی رات دن برسات ہوتی ہے

 

مَلَک حاضر نہ ہوں بہرِ سلامی آپ کے در پر

نہ ایسی صبح ہوتی ہے ، نہ ایسی رات ہوتی ہے

 

الف سے سین تک قرآن سارا اُن کی سیرت ہے

اسے پڑھ لو جہاں سے بھی ، اُنھی کی بات ہوتی ہے

 

انھی کی یاد ہو ہر دم ، انھی کا ذکر ہو ہر پل

محمد کے غلاموں کی یہی سوغات ہوتی ہے

 

زمیں مہکائی جاتی ہے ، سجائے جاتے ہیں افلاک

خدا ہم کو سکھاتا ہے کہ ایسے نعت ہوتی ہے

 

سلام اُن پر ، درور اُن پر ، وظیفہ رات دن کا ہے

یہی تسبیح ہم کو دافعِ آفات ہوتی ہے

 

خدا خود واشگاف الفاظ میں قرآں میں کہتا ہے

محمد جو بھی کہتے ہیں ، ہماری بات ہوتی ہے

 

ہے شکر اللہ کا ، ہم بھی ہیں اُن کی نعت گوئی میں

اسی میں دن گزرتا ہے ، اسی میں رات ہوتی ہے

 

مجھے دامانِ رحمت میں چھپا لیجے حضور اپنے

کہ جاں میری غریقِ گردشِ حالات ہوتی ہے

 

نبی کا نام لیوا فقر میں بھی شاہ ہوتا ہے

نبی کے نام لیوا کی بڑی اوقات ہوتی ہے

 

اگرچہ نارسا ہے عقل اپنی، فکر ژولیدہ

نہ ہو اُن کا کرم دانش ! کہاں پھر نعت ہوتی ہے ؟

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب سے آقا کی نظر ہے واہ ، واہ
خاکِ نعلین ہوئی سرمہ میری آنکھوں کا
اپنے روضے پر بلائو یا نبی
کوئی فکر لو نہیں دے رہی' کوئی شعرِ تر نہیں ہورہا
ہر سے مکرم ہر سے اعلیٰ
خوشبو سے رَقم کرتا ہے گُل تیرا قصیدہ
کب تلک منتظر ہم رہیں یا نبیؐ
حروفِ عجز برائے سلام حاضر ہیں
بخت لگتا ہے کہ یاور ابھی ہونے لگا ہے
جی جائے گا یہ آپ کا بیمار کسی طَور