مرا دل تڑپ رہا ہے

مرا دل تڑپ رہا ہے

کوئی قافلہ چلا ہے

 

یہی ایک التجا ہے

ترا شہر مُدعا ہے

 

مری خلوتوں میں روشن

ترے نام کا دیا ہے

 

مرے رت جگوں کا حاصل

تری مدحت و ثنا ہے

 

ترا ذکر روشنی ہے

ترا نام رہنما ہے

 

کبھی مجھ پہ مہرباں ہو

وہ خوشی جو اب خفا ہے

 

تری اک نظر کے صدقے

مرا کام بن گیا ہے

 

یہ فضا مہک اٹھی ہے

گلِ نعت یوں کِھلا ہے

 

یہ زمین بھی نئی ہے

یہ خیال بھی نیا ہے

 

ترا نام لکھ رہا ہوں

یہ کرم نہیں تو کیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مری جاں سے قریں میرا خُدا ہے
دل کہاں ضبط میں ہے،آنکھ کہاں ہوش میں ہے
بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے
شاہا ! سُخن کو نکہتِ کوئے جناں میں رکھ
اور کیا چاہیے بندے کو عنایات کے بعد
محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے
عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے
پردۂ ہجر نگاہوں سے سرکتا دیکھوں
مجھ کو یقیں ہے آئے گی امید بر کبھی
یہ جو میری آنکھیں ہیں میرے رب کی جانب سے مصطفےٰ کا صدقہ ہیں

اشتہارات