مرا ستّار ہے، میرا خُدا ہے

مرا ستّار ہے، میرا خُدا ہے

مرا غفّار ہے، میرا خُدا ہے

 

مرے دِل میں بسا رہتا ہے ہر دم

مرا دِلدار ہے، میرا خُدا ہے

 

مرا ہر زخم بھر دیتا ہے پل میں

مرا غم خوار ہے، میرا خُدا ہے

 

وہی روزی رساں ہے عالمیں کا

وہ پالن ہار ہے، میرا خُدا ہے

 

وہاں وہ دستگیرِ رہرواں ہے

جو رہ دشوار ہے، میرا خُدا ہے

 

جسے چاہے وہ عزت سے نوازے

وہ خود مختار ہے، میرا خُدا ہے

 

ہے عفو و درگزر جس کا وتیرہ

ظفرؔ سرشار ہے، میرا خُدا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ