مرا ستّار ہے، میرا خُدا ہے

مرا ستّار ہے، میرا خُدا ہے

مرا غفّار ہے، میرا خُدا ہے

 

مرے دِل میں بسا رہتا ہے ہر دم

مرا دِلدار ہے، میرا خُدا ہے

 

مرا ہر زخم بھر دیتا ہے پل میں

مرا غم خوار ہے، میرا خُدا ہے

 

وہی روزی رساں ہے عالمیں کا

وہ پالن ہار ہے، میرا خُدا ہے

 

وہاں وہ دستگیرِ رہرواں ہے

جو رہ دشوار ہے، میرا خُدا ہے

 

جسے چاہے وہ عزت سے نوازے

وہ خود مختار ہے، میرا خُدا ہے

 

ہے عفو و درگزر جس کا وتیرہ

ظفرؔ سرشار ہے، میرا خُدا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تو اپنی رحمتوں کا ابر برسا، خداوندا تو ہم پہ رحم فرما
زباں پر حمدِ باری ہے، مرے آنسو نہیں تھمتے
خدا کا لطف ہے مجھ پر کرم ہے
خدا کی یاد سے یوں دل لگا لو
مجھے الفاظ کی خیرات عطا کر
سرِّ توحید
جس طرف ہر زماں رواں ہو گا
نگاہوں میں مدینہ آ گیا ہے
مریضِ جاں بلب ہو، لادوا ہو
خدا کا، عشق محبوبِ خدا کا