مرے آقا زمینیں اور زمانے آپ کے ہیں

مرے آقا زمینیں اور زمانے آپ کے ہیں

جو ہیں کون ومکاں میں کُل خزانے آپ کے ہیں

 

بجائے خود ثنا ہیں لفظ محمود ومحمد

کچھ ایسے نام ہی رکھے خدا نے آپ کے ہیں

 

جو دامن حشر تک بھرتے رہیں گے، ہیں ہمارے

نہ خالی ہوں جو رحمت کے خزانے، آپ کے ہیں

 

یہ مانا آج ہم بھولے ہوئے، بھٹکے ہوئے ہیں

پلٹ کر قافلے سب در پہ آنے آپ کے ہیں

 

ازل سے ہے سفر میں آپ ہی کا نور آقا

زمانے وہ نئے ہوں یا پُرانے، آپ کے ہیں

 

مدینہ جن کے ہے دل میں، نظر میں سبز گنبد

وہ سارے مست وبے خود، وہ دوانے آپ کے ہیں

 

چراغاں ہے دلوں میں آپ کی شمع کرم سے

یہ روحیں مومنوں کی، آستانے آپ کے ہیں

 

متاعِ جاں اسے بس ہے یہی خوابِ مبارک

قدم چومے کمال بے نوا نے آپ کے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ