مرے مولا آئے لئے کملی کالی

مرے مولا آئے لئے کملی کالی

وہ سارے سہاروں کے مالک وہ والی

 

اسی کی عطا ہے وہی آسرا ہے

وہی در ہے اعلیٰ وہی در ہے عالی

 

ہے کاہے کا ڈر اور کاہے کا کھٹکا

وہ مولا وہ مالک وہ حامی وہ والی

 

دکھی دل کا اک آسرا ہے محمد

دکھی دل کی ساری اداسی ہے ٹالی

 

دلارِ الٰہی کرم ہو کرم ہو

ہری کر دے ہر اک مری سوکھی ڈالی

 

ملی ہر کسی کو ہے امداد دائم

اسی در کا اس واسطے ہوں سوالی

 

دو عالم سے اٹھی صدا ہر سو اک ہی

وہ آئے وہ آئے گداؤں کے والی

 

دو عالم معطر ہوئے اس کے دم سے

ملی ہر کسی کو ہے آسودہ حالی

 

ہے اللہ کا رحم و کرم اور احساں

ملی ہے محمد کی در گاہِ عالی

 

ہو سائل کے سارے دکھوں کا مداوا

صدا دے رہا ہوں دو عالم کے والی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ