اردوئے معلیٰ

مسند و منبر و اکرام خدا حافظ اب

تہمت و طعنہ و دشنام خدا حافظ اب

 

الوداع ، تجربہ گاہانِ جہاں ، جاتا ہوں

عمر پھر ہو گئی ناکام خدا حافظ اب

 

دل ترے کھیل تماشے سے بھرا جاتا ہے

ائے مرے عشق کے ہنگام خدا حافظ اب

 

کرہِ ارض پہ مدفون ہوا چاہتا ہوں

میرے افلاک کے اجرام خدا حافظ اب

 

میری پہچان کسی طور نہیں ہے ممکن

ائے مری شکل ، مرے نام خدا حافظ اب

 

اب شکستہ ہے مری خام خدائی کا بھرم

شہرِ تخلیق کے اصنام خدا حافظ اب

 

میں جو چاہوں بھی تو اب اور نہیں چل سکتا

اس لیے شوقِ سبک گام خدا حافظ اب

 

تو کہ اوہام کے درجے سے نہیں بڑھ پایا

میرے خود ساختہ الہام خدا حافظ اب

 

تندیِ موجِ بلاء ، اور زرا دیر ٹھہر

میرے ساحل ، مرے آرام خدا حافظ اب

 

میرے دینار و درم اب بھی وہی ہیں جو تھے

بڑھ چکے حسن کے اب دام خدا حافظ اب

 

جس کے شایان کبھی حرف نہیں ملتے تھے

اب اسے دیجیو پیغام خدا حافظ اب

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات