اردوئے معلیٰ

مسکراتے ہوئے شہروں کو مٹایا تو نے

مسکراتے ہوئے شہروں کو مٹایا تو نے

اور ویران علاقوں کو بسایا تو نے

 

رونے والوں کو اچانک ہی ہنسایا تو نے

ہنسنے والوں کو اِسی طرح رُلایا تو نے

 

ماں کی ممتا میں سما کر سبھی بچوں کو سدا

تھپکی دے دے کے محبت سے سلایا تو نے

 

وقت پر اپنے گرا بارشِ رحمت بن کر

بحرِ پُر شور سے بادل جو اٹھایا تو نے

 

اس سے سیراب ہے ہر لمحہ حیاتِ انساں

رحمتِ خاص کا وہ دریا بہایا تو نے

 

یہ بھی رحمت ہے تری بھیج کے دنیا میں رسول

اپنی توحید کا پیغام سنایا تو نے

 

تیری توصیف میں یہ مصرعِ ساحل بھی ہے

اس کی رسوائی سے ہر وقت بچایا جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ