مشامِ جان میں مہکا خیالِ سیدِ عالم

مشامِ جان میں مہکا خیالِ سیدِ عالم

بنا وجہِ قرارِ جاں وصالِ سیدِ عالم

 

زمانہ جب تمنائے جناں میں سر بہ سجدہ تھا

مرے ہونٹوں پہ رقصاں تھا سوالِ سیدِ عالم

 

تمثل سے ورا ہیں گیسوئے اطہر سے ناخن تک

نہ ممکن تھی نہ ممکن ہے مثالِ سیدِ عالم

 

ہم ان کے عارض و لب کی ثنا میں کھوئے رہتے ہیں

ہمیں مصروف رکھتا ہے جمالِ سیدِ عالم

 

بہ وقتِ حاضری من زارا قبری ذہن میں گونجا

بڑا مسحور کن تھا یہ مقالِ سیدِ عالم

 

قلم جھکتا نہیں دروازۂ شاہانِ دنیا پر

مرا موضوع رہتا ہے خصالِ سیدِ عالم

 

فرشتے بڑھ کے اس کے راستے میں پر بچھاتے ہیں

جسے محبوب ہو جاتی ہے آلِ سیدِ عالم

 

ہمارے ہونٹ بھی اشفاق سجدہ گاہِ خوشبو ہوں

اگر بوسے کو مل جائیں نعالِ سیدِ عالم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نازاں تو ہوں میں مدحتِ سرکار کے سبب
دنیا کو سیدھی راہ دکھانا رسول کا
اگر کوئی اپنا بھلا چاہتا ہے
عجب کیف ہے عجب ہے خمار آنکھوں میں
خدا و ندا (مدینہ میرامسکن ہو) توکیا کہنا
جب دشنہ دشنہ دشنہِ مژگانِ تیز تھا
قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
شہِ دیں کی طلب میں زندگی محسوس ہوتی ہے
جسم کو کیا روح کو بھی قبلہ رو کرتے رہو
بے مثل ولاجواب ہو یکتا تمہی تو ہو

اشتہارات