مشکلوں میں پکارا کرم ہی کرم

 

مشکلوں میں پکارا کرم ہی کرم

ہوگیا مجھ پہ آقاؐ کرم ہی کرم

 

اُنؐ کے دامانِ رحمت میں جو آگیا

کون ہے بے سہارا؟ کرم ہی کرم

 

اُس پہ رحمت رہے گی خدا کی سدا

جس پہ ہو مصطفی کا کرم ہی کرم

 

من کہ مدحت سرا ام سرِبزمِ نعت

مجھ پہ بھی شاہِ والاؐ کرم ہی کرم

 

مرتضیٰؔ وہ سراپا سخا ہی سخا

مرتضیٰؔ وہ سراپا کرم ہی کرم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شــیوہ عـــفو ہــو ، پیـــمانہ سالاری ہـــو
باالیقیں مروہ ، صفا پر زندگی ہے آپؐ سے
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
بُلا لو پھر ہمیں شاہِ عربؐ مدینے میں
اگر میں عہد رسالت ماب میں ہوتا
سعادت یہ خیر اُلبشرؐ دیجئے
ہر موج ہوا زلف پریشانِ محمدؐ
میں لاکھ برا ٹھہرا، یہ میری حقیقت ہے
قصہء شقِّ قمر یاد آیا​
دار و مدارِ حاضری تیری رضا سے ہے

اشتہارات