اردوئے معلیٰ

مصطفٰی کے بنا بسر نہ ہوئی

رات گزری مگر سحر نہ ہوئی

 

یہ صدا دل ، جگر ، نظر میں رہی

’’ وہ یہیں تھے مگر خبر نہ ہوئی ‘‘

 

میں خیالوں میں ڈھونڈتا ہوں جنہیں

ان کی صورت ہی جلوہ گر نہ ہوئی

 

دیکھ کر موسیٰ گر پڑے تھے جہاں

چشم نادر اِدھر اُدھر نہ ہوئی

 

ان کی سیرت پہ جو عمل نہ ہوا

زندگی میری کارگر نہ ہوئی

 

ان کا در تو کھلا ہوا ہے مگر

مجھ سے مدحت ہی پر اثر نہ ہو ئی

 

در پہ بیٹھا ہوں میں جھکا کے نظر

پھر یہ ہستی بھی دربدر نہ ہوئی

 

میں بھی قائم بنا غلامِ نبی

چاکری اور عمر بھر نہ ہوئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ