مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں

مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں

راہبر آپ ہیں راہنما آپ ہیں

 

میں بہک جاؤں ممکن نہیں ہے یہاں

اس جہاں میں مرے مقتدا آپ ہیں

 

عزتیں، عظمتیں ہیں سبھی آپ سے

زندگی کا مری آسرا آپ ہیں

 

آپ کے در پہ گزرے مری زندگی

قلب کا آخری مدعا آپ ہیں

 

خوف مجھ کو غموں سے نہیں ہے کوئی

راحت و لطف کا سلسلہ آپ ہیں

 

کیوں در غیر پر جائے زاہدؔ شہا

دو جہانوں میں جب آسرا آپ ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے
سرکا رکے جلووں سے معمور نظر رکھئیے
نعت کہنا مری قسمت کرنا
لے چلا مجھ کو طالعِ بیدار
جب بھی نگاہ کی ہے کِسی پر حضور نے
چلے زمِین سے جب آپ لامکاں کے لئے
حسن تمام و لطف سراپا تمہی تو ہو
پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے
نعلین گاہِ شاہ سے لف کر دیئے گئے
شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

اشتہارات