اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

معبودِ حقیقی

نہیں معبود کوئی

بس اک اللّٰہ معبودِ حقیقی ہے

چراغِ نور ہو جیسے کسی قندیل کے اندر

رکھا ہو ایک شیشے کے کنول میں وہ

ہے شیشے کا کنول شفاف مثلِ کوکبِ پُر نور

وہ روشن روغن زیتون سے ہے جو مبارک اک شجر ہے

ہے اس کی روشنی مشرق کی جانب

اور نہ ہی مغرب کی جانب

وہی ہے حیّ و قیّوم

نہ اس کو اونگھ آتی ہے

نہ اس کو نیند آتی ہے

زمیں اور آسمانوں میں ہے جو کچھ

سب اس کی ملکیت ہے

بغیرِ اذن اس کے کر نہیں سکتا

سفارش کوئی بھی اس سے کسی کے واسطے

ہمارے آگے جو کچھ ہو رہا ہے

ہمارے پیچھے جو کچھ ہو چکا ہے

اسے سب کی خبر ہے

احاطہ کر نہیں سکتا ہے کوئی علم کا اس کے کسی شئی میں

مگر وہ جتنا چاہے

اسی کی حکمرانی ہے زمین و آسمانوں میں

وہ تھکتا ہی نہیں اپنی حکومت کو چلانے میں

وہی ہے اکبر و مولیٰ

وہی سب حاکموں کا حاکمِ اعلا

وہ جس کو چاہتا ہے حکمرانی بخش دیتا ہے

وہ جس سے چاہتا ہے حکمرانی چھین لیتا ہے

وہ جس کو چاہتا ہے عزت و ناموس دیتا ہے

وہ جس کو چاہتا ہے خوار کر دیتا ہے پل بھر میں

وہ جس کو چاہتا ہے سب سے زیادہ رزق دیتا ہے

ہے اس کے ہاتھ میں سب کچھ

وہی ہے حاکمِ اعلا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر جگہ ہر نظر دیکھ سکتی نہیں ، تو حیات آفریں تو حیات آفریں
بے کیف ہے حیات ترے ذکر کے بغیر
مرے مولا کہتا رہوں سدا , تری شان جل جلالہ
میں تجھ کو دیکھ لوں اتنی تو زندگی دے دے
خدا کے سامنے سر کو جھکا دو
مکیں سارے خدا کے حمد گو ہیں، مکاں سارے خدا کے حمد گو ہیں
خدائے پاک کا مجھ پر کرم ہے
طوافِ خانہ کعبہ ترجماں ہے ایک مرکز کا
خدائے مہربان نگہِ کرم للّٰہ خدارا
خدا کا فیض جاری ہر جہاں میں