معروف شاعر اور گیت کار جان نثار اختر کا یوم وفات

آج معروف شاعر اور گیت کار جان نثار اختر کا یوم وفات ہے

مشہور اردو شاعر اور گیت کار جان نثار اختر 14 فروری 1914 کو بھارت کے شہر گوالیار (مدھیہ پردیش) میں پیدا ہوئے۔
بیسویں صدی کے عظیم اردو غزل اور نظم گو شاعروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ وہ ترقی پسند رائٹرز تحریک کا حصہ تھے۔
وہ گیت کار جاوید اختر کے والد تھے اور مضطر خیر آبادی کے بیٹے تھے۔
1938ء میں علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ 1940ء میں وکٹوریا کالج گوالیار میں اردو کے لیکچرار ہوگئے۔ اس کے بعد حمیدیہ کالج بھوپال میں اسی عہدے پر مقرر ہوئے۔ یہاں سے استعفیٰ دے کر ممبئی چلے گئے جہاں فلمی دنیا سے منسلک ہوگئے۔
نظموں کے مجموعے سلاسل، پچھلے پہر اور نذر بتاں شائع ہوچکے ہیں۔ 1976ء میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ ترقی پسند اور انقلابی شاعر تھے اور ان کے شاعری میں اس کا اظہار ہوتا ہے
انہوں نے 151 فلمی گانے لکھے۔ جن مشہور فلموں میں ان کے نغمے شامل ہیں ان کے نام ’’یاسمین، سی آئی ڈی، رستم سہراب، نوری، پریم پروت، شنکر حسین، رضیہ سلطان‘‘ ہیں۔
19 اگست 1976 کو ان کا انتقال ہوا۔
نوٹ:
جان نثار اختر کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے، کہیں آٹھ فروری ہے اور کہیں چودہ فروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا

یہ کم نہیں ہمیں جینے کا حوصلہ تو رہا

گزر ہی آۓ کسی طرح تیرے دیوانے

قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا

چلو نہ عشق ہی جیتا نہ عقل ہار سکی

تمام وقت مزے کا مقابلہ تو رہا

میں تیری ذات میں گم ہو سکا نہ تو مجھ میں

بہت قریب تھے ہم پھر بھی فاصلہ تو رہا

یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لاابالی تھی

تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھے

اکارت جائے گا خونِ شہیداں ہم نہ کہتے تھے

عِلاجِ چاکِ پیراہن ہُوا، تو اِس طرح ہوگا

سِیا جائے گا کانٹوں سے گریباں ہم نہ کہتے تھے

ترانے کچھ دبے لفظوں میں خود کو قید کرلیں گے

عجب انداز سے پھیلے گا زِنداں ہم نہ کہتے تھے

کوئی اِتنا نہ ہوگا لاش بھی لے جا کے دفنا دے

اِنھیں سڑکوں پہ مرجائے گا اِنسان ہم نہ کہتے تھے

نظرلپٹی ہے شُعلوں میں، لہو تپتا ہےآنکھوں میں

اُٹھا ہی چاہتا ہے، کوئی طوُفاں ہم نہ کہتے تھے

چَھلکتے جام میں بھیگی ہُوئی آنکھیں اُتر آئیں

ستائے گی کسی دِن یادِ یاراں ہم نہ کہتے تھے

نئی تہذیب کیسے لکھنؤ کو راس آئے گی

اُجڑ جائے گا یہ شہرِغزالاں ہم نہ کہتے تھے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایک تو نیناں کجرارے اور اس پر ڈوبے کاجل میں

بجلی کی بڑھ جائے چمک کچھ اور بھی گہرے بادل میں

آج ذرا للچائی نظر سے اُس کو بس کیا دیکھ لیا

پگ پگ اُس کے دل کی دھڑکن اُتری آئے پائل میں

پیاسے پیاسے نیناں اُس کے جانے پگلی چاہے کیا

تٹ پر جب بھی جاوے ‘سوچے’ ندیا بھر لوں چھاگل میں

صبح نہانے جوڑا کھولے، ناگ بدن سے آ لپٹیں

اُس کی رنگت، اُس کی خوشبو کتنی ملتی صندل میں

چاند کی پتلی نوک پہ جیسے کوئی بادل ٹِک جائے

ایسے اُس کا گِرتا آنچل اٹکے آڑی ہیکل میں

گوری اس سنسار میں مجھکو ایسا تیرا روپ لگے

جیسے کوئی دیپ جلا ہو گھور اندھیرے جنگل میں

کھڑکی کی باریک جھری سے کون یہ مجھ تک آ جائے

جسم چرائے، نین جھکائے، خوشبو باندھے آنچل میں

پیار کی یوں ہر بوند جلا دی میں نے اپنے سینے میں

جیسے کوئی جلتی ماچس ڈال دے پی کر بوتل میں

آج پتہ کیا، کون سے لمحے، کون سا طوفاں جاگ اُٹھے

جانے کتنی درد کی صدیاں گونج رہی ہیں پل پل میں

ہم بھی کیا ہیں کل تک ہم کو فکر سکوں کی رہتی تھی

آج سکوں سے گھبراتے ہیں، چین ملے ہے ہل چل میں

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ھم نے کاٹی ھیں تری یاد میں راتیں اکثر

دل سے گزری ھیں تاروں کی باراتیں اکثر

عشق راہزن نہ سہی عشق کے ھاتھوں اکثر

ھم نے لٹتی ھوئی دیکھی ھیں باراتیں اکثر

ھم سے اک بار بھی جیتا ھے نہ جیتے گا کوئی

وہ تو ھم جان کے کھالیتے ھیں ماتیں اکثر

ان سے پوچھو کبھی چہرے بھی پڑھے ھیں تم نے

جو کتابوں کی کیا کرتئے ھیں باتیں اکثر

حال کہنا ھو کسی سے تو مخاطب ھے کوئی

کتنی دلچسپ ھوا کرتی ھیں باتیں اکثر

اور تو کون ھے جو مجھ کو تسلی دیتا

ھاتھ رکھ دیتی ھیں دل پر تری باتیں اکثر

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

رنج و غم مانگے ہے، اندوہ و بلا مانگے ہے

دل وہ مجرم ہے کہ خود اپنی سزا مانگے ہے

چپ ہے ہر زخمِ گلو، چپ ہے شہیدوں کا لہو

دستِ قاتل ہے جو محنت کا صِلہ مانگے ہے

تو بھی اک دولتِ نایاب ہے، پر کیا کہیے

زندگی اور بھی کچھ تیرے سوا مانگے ہے

کھوئی کھوئی یہ نگاہیں، یہ خمیدہ پلکیں

ہاتھ اٹھائے کوئی جس طرح دعا مانگے ہے

راس اب آئے گی اشکوں کی نہ آہوں کی

آج کا پیار نئی آب و ہوا مانگے ہے

بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی

ہر سکوتِ شبِ غم کوئی صدا مانگے ہے

لاکھ منکر سہی پر ذوقِ پرستش میرا

آج بھی کوئی صنم، کوئی خدا مانگے ہے

سانس ویسے ہی زمانے کی رکی جاتی ہے

وہ بدن اور بھی کچھ تنگ قبا مانگے ہے

دل ہر اک حال سے بیگانہ ہوا جاتا ہے

اب توجہ، نہ تغافل، نہ ادا مانگے ہے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ھے کہ تم ھو

سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ھے کہ تم ھو

جب شاخ کوئی ھاتھ لگاتے ھی چمن میں

شرمائے لچک جائے تو لگتا ھے کہ تم ھو

صندل سے مہکتی ھوئی پر کیف ھوا کا

جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ھے کہ تم ھو

اوڑھے ھوئے تاروں کی چمکتی ھوئی چادر

ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ھے کہ تم ھو

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تو اسقدر مجھے اپنے قریب لگتا ھے

تجھے الگ سوچوں تو عجیب لگتا ھے

جسے نہ حسن سے مطلب نہ عشق سے سروکار

وہ شخص مجھ کو بہت بد نصیب لگتا ھے

حدود ذات سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

نہ کوئی غیر نہ کوئی رقیب لگتا ھے

یہ دوستی یہ مراسم یہ چاہتیں یہ خلوص

کبھی کبھی مجھے سب عجیب لگتا ھے

افق پہ دور چمکتا ھوا کوئی تارہ

مجھے چراغ دیار حبیب لگتا ھے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی نہ ہو

کچھ نہ کچھ تیرا احسان اُتارا ہی نہ ہو

کُوئے قاتل کی بڑی دھوم ہے، چل کر دیکھیں

کیا خبر کُوچہء دلدار سے پیارا ہی نہ ہو

دل کو چُھو جاتی ہے رات کی آواز کبھی

چونک اُٹھتا ہوں کہیں تم نے پُکارا ہی نہ ہو

کبھی پلکوں پہ چمکتی ہے جو اشکوں کی لکیر

سوچتا ہوں تیرے آنچل کا کنارا ہی نہ ہو

زندگی اک خلش دے کے نہ رہ جا مجھ کو

درد وہ دے جو کسی صورت گوارہ ہی نہ ہو

شرم آتی ہے کہ اُس شہر میں ہم ہیں کہ جہاں

نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارہ ہی نہ ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شاعر عباس تابش کا یوم پیدائش
معروف شاعر روش صدیقی کا یوم پیدائش
معروف شاعر اور براڈکاسٹر ایوب رومانی کا یوم وفات
معروف شاعر رضی اختر شوق کا یومِ وفات
ممتاز شاعر اور ادیب گویا جہان آبادی کا یوم پیدائش
معروف کہانی کار اور ترقی پسند شاعر ظہیر کاشمیری کا یومِ پیدائش
ادبی دنیا کی معروف شخصیت محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کا یوم پیدائش
نامور شاعر، داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی کا یوم وفات
ممتاز شاعر، تابش دہلوی کا یوم پیدائش
معروف شاعر محسن بھوپالی کا یومِ پیدائش

اشتہارات