اردوئے معلیٰ

قمر جلالوی کا یوم پیدائش

آج اردو کے نام ور غزل گو‘ مرثیہ گو اور منقبت نگار شاعر جناب استاد قمرؔ جلالوی کا یوم پیدائش ہے

استاد قمر جلالوی کا اصل نام سید محمد حسین تھا۔ آپ ۱۹، اگست ۱۸۸۷کو علی گڑھ کے قصبے جلالی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباء و اجداد کا سلسلہ مشہور ایرانی شخصیت ’’سید نجیب علی ہمدانی‘‘ سے ملتا ہے۔ آپ کے علاقے میں سکول و کالج نہ ہونے کی وجہ سے عربی، فارسی اور اردو کی ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔
آپ نے آٹھ سال کی عمر ہی میں موزوں اشعار کہنا شروع کر دئیے تھے۔ آواز میں غضب کا درد تھا۔ رفتہ رفتہ مشق سخن کے ساتھ ساتھ ان کی شہرت قصبہ جلالی کی حدود سے نکل کر علی گڑھ اور گرد و نواح میں پھیل گئی۔ صرف بائیس سال کی عمر میں آپ کو استاد کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ جلالی اور علی گڑھ کے اکثر نوجوان شعرأ انہیں اپنا کلام دکھانے لگے تھے
آپ کی شادی ۱۹۲۹ء میں محترمہ کنیزہ سیدہ سے ہوئی جن سے صرف ایک صاحبزادی کنیز فاطمہ ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد آپ ۱۱، ستمبر ۱۹۴۷ء کو پاکستان تشریف لے آئے۔
استاد قمر جلالوی کے کلام میں بیان کی برجستگی، اسلوب کی سلاست، ایک چبھتی ہوئی بات کہنے کا انداز اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص قسم کی ڈرامائیت پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے مخصوص ترنم اور سلاست کی وجہ سے مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے۔ ان کے کلام میں دہلی اور لکھنو کی چاشنی، شوخی اور لطافت نظر آتی ہے۔
غزل کے علاوہ مرثیہ، سلام، منقبت اور رباعی میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔
ان کے شعری مجموعوں میں اوج قمر، رشک قمر، غم جاوداں، عقیدت جاوداں شامل ہیں۔
ان کی متعدد غزلیں مختلف گلوکاروں نے بہت خوبصورت انداز میں گائی ہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی ان کا کلام بہت شوق سے سنا جاتا ہے۔
حکومت پاکستان نے ۱۹۵۹ء میں ان کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے ڈیڑھ سو روپے ماہوار وظیفہ تاحیات مقرر کیا۔
استاد قمر جلالوی آخری عمر میں یرقان کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے اور اسی بیماری کی وجہ سے ۲۴، اکتوبر ۱۹۶۸ء کو کراچی میں انتقال فرمایا۔
ان کی لوح مزار پر ان کا یہ شعر کنندہ ہے:
ابھی باقی ہیں پتوں پر جلے تنکوں کی تحریریں
یہ وہ تاریخ ہے، بجلی گری تھی جب گلستاں پر
——۔۔۔۔
منتخب کلام
——۔۔۔۔

 

سنُ سنُ کے مجھ سے وصف ترے اختیار کا

دل کانپتا ہے گردش ِ لیل و نہار کا

لاریب لاشریک شہنشاہِ کُل ہے تو!

سَر خم ہے ترے دَر پہ ہر اک تاجدار کا

محموُد تیری ذات محمّد(ص) تِرا رسول

رکھا ہے نام چھانٹ کے مختار ِ کار کا

ہوتا نہیں جو حکم تِرا صید کے لئے

صید چھوڑدیتا ہے پیچھا شکار کا

بنوا کے باغ ِ خُلد تِرے حکم کے بغیر

شدّاد منہ نہ دیکھنے پایا بہار کا

جاتی ہے تیرے کہنے سے گلزار سے خزاں

آتا ہے تیرے حکم سے موسم بہار کا

رزّاق تجھ کو مذہب و ملّت سے کیا غرض

خالق تو ہی ہے کافر و ایمان دار کا

کہنا پڑے گا لاکھ عبادت گزار ہو

بندہ گنہ گار ہے پرور دگار کا

منزل تو شے ہے دوسری لاکھوں گزر گئے

اب تک پتا چلا نہ تِری رھگزار کا

پایا جو پھل تو شاخ ِ ثمر دار جھک گئی

کہتی ہوئی کہ شکر ہے پروردگار کا

دے کر عروج اختر ِ قسمت کو اے قمر

مالک بنادیا مجھے شب کی بہار کا

 

——۔۔۔۔

 

تربت کہاں لوحِ سرِ تربت بھی نہیں ہے

اب تو تمھیں پھولوں کی ضرورت بھی نہیں‌ہے

وعدہ تھا یہیں کا جہاں فرصت بھی نہیں ہے

اب آگے کوئی اور قیامت بھی نہیں ہے

اظہارِ محبّت پہ بُرا مان گئے وہ

اب قابلِ اظہار محبّت بھی نہیں ہے

کس سے تمھیں تشبیہہ دوں یہ سوچ رہا ہوں

ایسی تو جہاں میں کوئی صوُرت بھی نہیں ہے

تم میری عیادت کے لئے کیوں نہیں آتے

اب تو مجھے تم سے یہ شکایت بھی نہیں ہے

اچھا مجھے منظور قیامت کا بھی وعدہ

اچھا کوئی اب دور قیامت بھی نہیں ہے

باتیں یہ حسینوں کی سمجھتا ہے قمر خوب

نفرت وہ جسے کہتے ہیں نفرت بھی نہیں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ