مقدَّر ہے مدینے میں

مقدَّر ہے مدینے میں

بڑا دَر ہے مدینے میں

 

ہر اِک ذرّہ مدینے کا

منوّر ہے مدینے میں

 

وہ صادق بھی، امیں بھی ہے

پیمبر ہے مدینے میں

 

جہاں قُدسی اُترتے ہیں

وہی گھر ہے مدینے میں

 

جہاں سائل زمانہ ہے

وہی دَر ہے مدینے میں

 

کیا روشن جہاں جس نے

وہ مظہر ہے مدینے میں

 

کروڑوں دِلرباؤں سے

حسیں تر ہے مدینے میں

 

وہ چشمہ فیض کا جاری

سرا سر ہے مدینے میں

 

رضاؔ تطہیر کا مظہر

وہ اطہر ہے مدینے میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سوال : حُسن کی دنیا میں دیجیے تو مثال؟
محمدؐ کا حُسن و جمال اللہ اللہ
حُسن کی تشبیہ کے سب استعارے مسترد
جاری ہے فیض شہر شریعت کے بابؑ سے
آئے بیمار جو دَر پر تو شِفا دیتے ہیں
بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ​
مرحبا! رحمت دوامی پر سلام
تاجدار جہاں یا نبی محترم (درود و سلام)
دوستو! نور کے خزینے کا
جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے