مقدَّر ہے مدینے میں

مقدَّر ہے مدینے میں

بڑا دَر ہے مدینے میں

 

ہر اِک ذرّہ مدینے کا

منوّر ہے مدینے میں

 

وہ صادق بھی، امیں بھی ہے

پیمبر ہے مدینے میں

 

جہاں قُدسی اُترتے ہیں

وہی گھر ہے مدینے میں

 

جہاں سائل زمانہ ہے

وہی دَر ہے مدینے میں

 

کیا روشن جہاں جس نے

وہ مظہر ہے مدینے میں

 

کروڑوں دِلرباؤں سے

حسیں تر ہے مدینے میں

 

وہ چشمہ فیض کا جاری

سرا سر ہے مدینے میں

 

رضاؔ تطہیر کا مظہر

وہ اطہر ہے مدینے میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ