ممتاز شاعر، ادیب اور ماہر تعلیم محسنؔ احسان کا یوم وفات

آج ممتاز شاعر، ادیب اور ماہر تعلیم محسنؔ احسان کا یوم وفات ہے

محسنؔ احسان کا تعلق پاکستان کے صوبے خیبر پختون خواہ کے اُس قبیل سے تھا جنھوں نے صوبہ سرحد میں اردو ادب کی آبیاری میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔
محسنؔ احسان کا اصل نام احسان الٰہی تھا اور وہ 15 اکتوبر 1932ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا تھا اور 35 سال تک اسلامیہ کالج، پشاور میں انگریزی کی تدریس سے وابستہ رہے تھے۔
محسنؔ احسان کی نظموں اور غزلوں کے مجموعے ناتمام، ناگزیر، ناشنیدہ، نارسیدہ اور سخن سخن مہتاب، نعتیہ شاعری کا مجموعہ اجمل و اکمل، قومی نظموں کا مجموعہ مٹی کی مہکار اور بچوں کی شاعری کا مجموعہ پھول پھول چہرے کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خوشحال خان خٹک اور رحمن بابا کی شاعری کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 1999ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
23 ستمبر 2010ء کو اردو کے ممتاز شاعر محسنؔ احسان برطانیہ کے شہر لندن میں وفات پاگئے تھے ۔ وہ کینسر کے مریض تھے اور لندن کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کی تدفین پشاور میں ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر اور ادیب محسن زیدی کا یومِ پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔
محسنؔ احسان کی تاریخ وفات ’’محسن احسان شاعر بے مثل‘‘ سے نکلتی ہے۔ ان اعداد کا مجموعہ 1431 ہوتا ہے جو ان کا ہجری سن وفات ہے۔ وہ پشاور میں پشاور یونیورسٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
بشکریہ خالد محمود
۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اک کر کے ستاروں کی طرح ڈوب گئے
ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔
امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
سمندروں کے سفر پر کیا روانہ ہمیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
کندا تھے جتنے حرف وہ کتبوں سے مٹ گئے
قبروں سے پوچھتا ہوں میرے یار کیا ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر اور ادیب محسنؔ زیدی کا یومِ وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔
خود اپنے آپ سے یہ گلہ عمر بھر کیا
کیسے ترے فراق کا موسم بسر کیا
منقار سے ہوا نے لکھی داستان
یوں حرف معتبر کو بھی نا معتبر کیا
کیسی ہوا چلی کہ معاۤ بارشوں کے بعد
ہر بے گلاب رت نے گلستان میں گھر کیا
خود ہم نے کاٹ کاٹ دی زنجیر سانس کی
خود ہم نے زندگی کا سفر مختصر کیا
بے آب آئینوں کو بھی اک آب بخش دی
ہر چند بے ہنر تھے یہ کار ہنر کیا
سارے ستون ریت کی بنیاد پر اٹھاۓ
ہم نے کس احتیاط سے تعمیر گھر کیا
دنیا سمٹ کے ایک ہی نکتے میں آ گئی
ہم نے اپنی ذات کے اندر سفر کیا
تھا میر جی کو عزت سادات کا خیال
ہم نے سخن کو جنس دکان ہنر کیا
موقع شناس قصر ہوس میں پہنچ گۓ
طے مرحلہ اڑان کا بے بال و پر کیا
خوشبو مرے بدن سے خود آ کر لپٹ گئی
محسنؔ یہ کس دیار سے میں نے گزر کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
فقط کاغذ پہ لکھا بار اذیت اترا
جب غزل کہہ لی تو زنگار طبیعت اترا
بھوک سے مرتے رہے خیمہ افلاس میں لوگ
آسمان سے نہ مگر خوانچہء نعمت اترا
ماں نے تعویذ بھی باندھا مرے بازو پہ مگر
پھر بھی سر سے نہ یہ سوداۓ محبت اترا
دل سراۓ میں تمنائیں ہیں کہ سر نیہوڑاۓ
کون بستی میں وہ مہمان مسرت اترا
اپنے قد کی اسے پہچان بہت مشکل تھی
سر سے جب طرہ دستار فضیلت اترا
میں نہ غم خوار شہنشہ نہ طلب گار کل
مجھ پہ کس واسطے آشوب قیامت اترا
بانوۓ شہر ادب کے لیے اس عہد میں حرف
کتنا بے مایہ و محروم صداقت اترا
سر کی فصلوں کو بچا لے گۓ سب لوگ مگر
ایک محسنؔ سر میدان ہلاکت اترا
۔۔۔۔۔۔۔۔
صوفئی شہر مرے حق میں دعا کیا کرتا
خود تھا محتاج عطا مجھ کو عطا کیا کرتا
اپنی آواز کے سناٹے سے ہول آتا ہے
میں بیابان تمنا میں صدا کیا کرتا
سانس لیتے ہوۓ سینے میں جلن ہوتی ہے
میں ترے شہر کی شاداب فضا کیا کرتا
اس فضا میں تو فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں
میں یہاں جرات پرواز بھلا کیا کرتا
محتسب جرم مرا دیکھ کے خاموش رہا
خود خطا کار تھا احکام سزا کیا کرتا
تم نے تو چھین لی مجھ سے مری گویائی بھی
میں تو اک کاغذ آتش زدہ تھا کیا کرتا
۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر کا شہر لٹیرا ہے نظر میں رکھیے
اب متاع غم جاناں بھی نہ گھر میں رکھیے
کیا خبر کون سے رستے میں وہ رہزن مل جاۓ
اپنا سایہ بھی نہ اب ساتھ سفر میں رکھیے
اب کہیں سے نہ خریدار وفا آۓ گا
اب کوئی جنس نہ بازار ہنر میں رکھیے
سر دیورا وہ خورشید بکف آیا ہے
اب چراغ دل و جاں راہ گزر میں رکھیے
شعلہء درد لیے دل زدگاں نکلے ہیں
اب کوئی آگ نئی برق و شرر میں رکھیے
چشمہء چشم پہ محسن وہ نہانے آیا
اب سدا اس کو اسی دیدہء تر میں رکھیے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

معروف شاعر اختر شیرانی کا یوم وفات
معروف شاعرہ محترمہ صفیہ شمیم ملیح آبادی کا یوم وفات
معروف ادیب گیان چند جین کا یوم پیدائش
معروف شاعر' شاعر جمالی کا یوم پیدائش
معروف ادیب ڈاکٹر سجاد باقر رضوی کا یوم پیدائش
معروف نعت گو شاعر ریاض مجید کا یوم پیدائش
معروف شاعر مجید امجد کا یوم پیدائش
معروف ادیب, شاعر اور ماہر نفسیات ڈاکٹر خالد سہیل کا یوم پیدائش
میر تقی میر کا یوم وفات
ممتاز شاعر اور ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم عثمانی کا یومِ وفات