منشی حیات بخش رسا کا یومِ وفات

آج معروف شاعر منشی حیات بخش رسا کا یومِ وفات ہے

 منشی حیات بخش رسانام منشی حیات بخش اور تخلص رساؔ تھا۔ 1872ء میں کاسنہ، ضلع بلند شہر اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ تعلیم سے فارغ ہوکر سرکاری ملازمت کر لی۔ 1885ء میں تحصیل مصطفیٰ آباد، مین پوری میں تعینات تھے۔ اور 1889ء میں شکوہ آباد میں محرّر جوڈیشل کے عہدے پر فائز تھے۔
داغؔ سے تلمذ حاصل تھا۔ ان کا دیوان نہ چھپ سکا۔ مولانا حسرتؔ موہانیؒ نے مختلف جرائد سے ان کا کلام جمع کرکے ایک مختصر مجموعۂ غزلیات مرتب کیا۔
منشی حیات بخش رسا 22؍نومبر 1913 کو رامپور میں انتقال کر گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔
منشی حیات بخش رسا کے یوم وفات پر منتخب اشعار
۔۔۔۔۔۔۔
جب سے گم ہوگیا ہے دل اپنا
چیز رکھتا ہوں بھول جاتا ہوں
———–
دل میں کسی کو رکھو دل میں رہو کسی کے
سیکھو ابھی طریقے کُچھ روز دلبری کے
آئے اگر قیامت تو دھجّیاں اُڑا دیں
پھرتے ہیں جستجو میں فتنے تری گلی کے
———–
بلا سے غیر کے در پر کرینگے ہم جبیں سائی
اگر مرضی تری اے کاتب تقدیر ایسی ہے
بوقتِ ذبح قاتل کا بڑھایا دل یہ کہہ کر
کہ تُو قاتل ہے ایسا اور تری شمشیر ایسی ہے
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر ڈاکٹر عندلیب شادانی کا یوم وفات
۔۔۔۔۔۔
دو قدم چل کے دکھا دو تو قیامت کا مزا
حشر سے پہلے ہی اک محشر بپا ہونے لگے
———-
وعدۂ حشر ہے پھر وہ بھی زمانے بھر سے
کوئی دامن نہ پکڑ لے سرِ محشر دیکھو
اُن کو دشمن سے جو اُلفت ہے پروا نہ کرو
اے رساؔ تم بھی کسی اور پہ مر کر دیکھو
———-
اُس کو جنت بھی عطا ہو تو جہنم سمجھے
جس پہ سایہ ہے تیرے کوچے کی دیواروں کا
———-
اُن کو تو ہم نے چاہا وہ یوں ستا رہے ہیں
اے چرخ کینہ پرور تو کیوں ستا رہا ہے؟
کوچے میں دشمنوں کے ہم اور سجدہ کرتے
نقشِ قدم کسی کا سر کو جُھکا رہا ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ