موڑ

دو مسافر جدا راہوں کے
اپنی منزل سے وہ بے خبر
اجنبی تھے مگر ساتھ چلتے رہے
دور کچھ ہی گئے تھے ابھی
موڑ اِک آگیا
نام جس کا جدائی پڑا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دُعا
کچھ بھی ہوں میں بُرا یا بھلا ہے کرم
درود اُنؐ پر جو انتخاب اور پسند رب کی
کیا پتہ اب منتظر آنکھوں میں بینائی نہ ہو
کلر بلائنڈ Colour Blind
کلفتِ جاں میں ترے در کی طرف دیکھتا ہوں
آہنی دیوار میں در دیکھنا
ہوتا ہے بازگشت میں جیسے صدا کے ساتھ
کاغذی مکاں
لفظ لکھوں جو بھی ، ہو وہ نعت کا صلّیِ علیٰ

اشتہارات