موڑ

دو مسافر جدا راہوں کے
اپنی منزل سے وہ بے خبر
اجنبی تھے مگر ساتھ چلتے رہے
دور کچھ ہی گئے تھے ابھی
موڑ اِک آگیا
نام جس کا جدائی پڑا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ