اُنہی ﷺ کے نام مُعَنْوَن کروں عقیدت بھی

اُنہی ﷺ کے نام مُعَنْوَن کروں عقیدت بھی

کہ فرض ٹھہری ہے مجھ پر اُنہی ﷺ کی اُلفت بھی

 

وہ ایک نام کہ جس پر ہے انحصارِ وجود

اسی کا عشق مرے پاس ہے امانت بھی!

 

رحیم ایسے کہ رحمت ہیں سب جہانوں کی

اُنہی ﷺکے پاس خلوص و وفا کی دولت بھی!

 

اُنہی ﷺ کے ذکر نے جذبے جگا دیئے دل میں

دیارِ ذات میں پھیلی ہے ان کی نکہت بھی!

 

پیام جن کا ہے آسودگی کا سرمایہ

اُنہی ﷺ کے نام سے قائم ہے آدمیت بھی!

 

اُنہی ﷺ کے نام پہ آدم کی ذرّیت نازاں

کہ جن پہ ختم ہوئی نعمتِ رسالت بھی!

 

اُنہی ﷺ کے نام سے توقیر ساعتوں کو ملی

زماں سے تا بہ زمن ہے بشر کی حرمت بھی

 

اُنہی ﷺ کے نور سے روشن جزیرۂ جاں ہے

خوشا کہ دل کو میسر ہے اُن کی قربت بھی!

 

عقیدتوں کے دریچے کھلیں تو کھلتا ہے

دلوں کے شہر پہ اکثر درِ بصیرت بھی!

 

سحر بھی کرتی ہے اُن ﷺ کے پیام کی تصدیق

ہوائیں دیتی ہیں پیغام، ہو سماعت بھی!

 

اُنہی ﷺ کے قرب سے بوبکر بن گئے صدیقؓ

ملی علیؓ کو اُسی ذات ﷺ سے سیادت بھی!

 

ہے اقتضائے محبت کہ نعت بھی لکھیے

مگر نظر میں رہے، عظمتِ رسالت بھی!

 

عزیزؔ نسبتِ آقا ﷺ پہ میں تو نازاں ہوں

اگرچہ ہوتی ہے اعمال پر ندامت بھی!

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جمالِ دوجہاں، محبوبؐ رب العالمین آئے
وہ زندگی میں نظارے سحر کے دیکھتے ہیں
کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
اے راحتِ جاں جو ترے قدموں سے لگا ہو
ہم اُنؐ کے آستاں تک دِل گرفتہ، دِلفگار آئے
میرے آقاؐ کے جو غلام بنے
درِ سرکارؐ تک پہنچا ہوں جب سے
مرے سینے میں ہلچل سی مچی ہے
ممدوح ! کرشمہ ہے تری چارہ گری کا
مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے