مُشتاق احمد یوسفی سے مُلاقات: ایک دیرینہ خواب کی تعبیر

مُشتاق احمد یوسفی سے مُلاقات: ایک دیرینہ خواب کی تعبیر
"ادھر کچھ ماہ قبل ایک شوخ چنچل لڑکی ھمیں ملی۔ آدھ پون گھنٹے کی گفتگُو کے بعد کہنے لگی کہ یُوسفی صاحب ! بات چیت میں تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک ھیں مگر تحریر میں بالکل لُچّے لگتے ھیں”۔
(مُشتاق احمد یوسفی)
😂😂😂
صاحبو ! یہ جملہ اُن درجنوں قہقہہ آور غیر مطبوعہ جُملوں میں سے ایک ھے جو ھم نے یُوسفی صاحب سے ملاقات کے دوران اُنہی کی زبانی سُنے اور آپ کو سُنانے والے ھیں۔ جب برسوں پُرانے کسی خواب کی تعبیر مل جائے تو انسان خُوشی سے گُنگ، حیرت سے گُم سُم اور بے یقینی سے ھکّا بکّا رہ جاتا ھے۔ مُشتاق احمد یُوسفی سے مل کر ھم پر یہ تینوں شدتیں ایک ساتھ نازل ھوئیں۔ یہ کہنے میں کیا تکلف اور تامل کریں کہ یُوسفی نے ھمارے بچپن کی گھنگھور اُداسیوں کو سہلایا، نوجوانی کے گھٹا ٹوپ شب و روز کو گرمایا اور گنجلک آلامِ روزگار کو آسان بنایا ھے ! ھم اُن سے ملے بغیر اُن کے ان گنت احسانوں تلے دبے تھے۔ سو جب ملے تو ھمارا ساکت و ششدر رہ جانا ھی بنتا تھا۔
معروف و بےمثال شاعرہ ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر کا یہ احسان شاید ھم ساری زندگی نہ چُکا پائیں کہ اُنہوں نے ھمیں یوسفی سے ملوایا۔ حسیب بھائی یعنی عنبر کے شوھرِ نامدار بھی ھمراہ تھے۔ ھم گھر ڈھونڈ ڈھانڈ کر پہنچے تو دروازے پر ایک عدد جیّد کُتے کو چشم براہ پایا۔ دیدہ و دل ھی نہیں بلکہ دندان و دُم بھی فرشِ راہ کیے بیٹھا تھا۔ یوسفی کا مرحوم کُتا (اللہ بخشے) سیزر یاد آگیا۔ موجودہ سگ سیزر کا سگا پڑپوتا ھے شاید۔ اس کا نام البتہ یوسفی نے "زار” رکھ چھوڑا ھے۔ واضح رھے کہ یہ زار و قطار رونے، آہ و زاریاں کرنے یا "پھر کوئی آیا دلِ زار ! نہیں کوئی نہیں” والا زار نہیں، روسی شاھنشاھوں والا زار ھے۔ نام تو تھا ھی شاھنشاھوں والا، عادات بھی ھوبہو ویسی ھی تھیں۔ دم سادھے فرش پر یُوں پڑا تھا جیسے تخت پر نشئی بادشاہ۔ "جو ناخلف دکھائیں سو ناچار دیکھنا”
کُتے نے (کہ جس کو کُتا کہنا بدتہذیبی ھوگی) انگڑائی لی تو عنبر سہم کر کہنے لگیں کہ "ارے ارے دیکھیے ! ھمیں ھی کاٹنے کی تیاری کررھے ھیں یہ”۔ خانساماں نے آکر تُرنت اُس ناھنجار کو طوق در گلو کیا تو ھماری گلوخلاصی ھوئی اور ھم اندر گُھسے۔
یوسفی کے گھر کے ڈرائینگ رُوم سے جمالیات کا ھر پہلو ھویدا تھا۔ روشنی، رنگ، خوشبو، مصوری، موسیقی، مجسمے اور محبت ! ھر شے ترتیب سے رکھی ھوئی۔ یُوسفی داخل ھوئے تو ھم سمیت سب اسبابِ جمالیات نے تعظیم سے استقبال کیا۔ شلوار قمیص میں لپٹا چھیانوے سالہ انتہائی لاغر و نحیف جسم، سُتا ھُوا مگر ھنستا مُسکراتا مطمئن چہرہ، آواز ایسی موھوم، مُلائم اور مدھم کہ کان لگائے بغیر سُننا مشکل (ھم تو خیر اُن کے حرف حرف کے لیے ھمہ تن گوش تھے)۔ اُٹھک بیٹھک اور چلت پھرت میں نقاھت مانع تھی مگر جب بولنے لگے تو چست و چاق و چوبند چٹکلے تھے کہ رنگ برنگ پُھلجھڑیوں کے مانند اُن کے لبوں سے پُھوٹ رھے تھے۔ باتیں ایسی کہ مارے خوشی کے دل دو پھانک ھوجائے۔ آتے ھی وہ صوفے پر بیٹھ گئے تو ھم بھی ھاتھ باندھے دھڑکتے دل لیے بیٹھ گئے۔ کمرے میں ایک دم گھمبیر خاموشی چھا گئی۔ ھم نے سوچا شاید لیجنڈ کی موجودگی ایسی ھی ھوتی ھے۔ کافی دیر تک یوسفی ٹکٹکی باندھ کر فرش کو اور ھم ایک دوسرے کا منہ تکتے رھے یہاں تک کہ اُنہوں نے نگاہ اُٹھائی اور عنبر سے کہنے لگے،”بھئی آپ کے جُوتے بہت خوبصورت ھیں”۔ عنبر اس غیرمتوقع جُملے (حملے) کی تاب نہ لاکر شکریہ ادا کرکے ھنسنے لگیں۔ یُوسفی بولے: "آپ ھی کی عُمر کی ھوں گی وہ لڑکی جو ھم سے ملیں۔ ڈاکٹر بن رھی تھیں شاید۔ رخصت ھوتے وقت اٹھلا کر کہنے لگیں کہ یوسفی صاحب ! ایک بات تو بتائیے۔ آپ جیسے عُمررسیدہ مرد جب مجھ جیسی نوجوان لڑکیوں سے ملتے ھیں تو جاتے جاتے یہ کیوں کہتے ھیں کہ بھئی ! ملتی رھا کرو”۔
اب قہقہوں کا دور شروع ھُوا۔ ھم نے ازراہ تلطف پُوچھا کہ "سرکار ! آج کل طبیعت کیسی ھے ؟”
کہنے لگے،”میاں ! اپنے آپ پر پڑا ھُوں۔ زندگی میں تو غم سے چھٹکارا نہیں ملنے کا”۔
ھم نے عرض کیا کہ "جی ھاں ! غالب نے بھی یہی کہا تھا کہ قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ھیں”۔
ایک دم سنبھل کر بیٹھ گئے اور بولے کہ "نہیں ! قیدِ حیات و بنتِ عم اصل میں دونوں ایک ھیں”۔
ایک اور قہقہہ لگا۔ ھم نے کُریدنے کی خاطر پوچھا کہ”مُرشد ! آپ کی کتابوں میں سے کونسی آپ کے دل کے بہت نزدیک ھے؟”
آنکھوں میں شرارت بھری چمک لیے بولے کہ "کتابوں کی تو خبر نہیں البتہ کچھ چہرے ضرور دل کے نزدیک ھیں جن کا نام لینے میں ھمیں تکلّف ھے”۔
جُملے کی داد دیجے، صاحبو ! ایسے جُملے بولنے والے اب ایک ھاتھ کی ایک اُنگلی پر گنے جاسکتے ھیں۔ یوسفی کے معاملے میں ھم ایک سے آگے کی گنتی کے قائل نہیں کیونکہ اُن کا کوئی ثانی ھے ھی نہیں۔
ھم نے سگِ زار کا ذکر چھیڑا کہ ماشااللہ سے بہت صحت مند، چوکس اور ھوشیار کُتا ھے۔ اللہ نظرِ بد اور مست ماداؤں سے بچائے۔
سوچ میں پڑ گئے۔ پھر فرمایا: "ایک فرانسیسی ادیبہ کا قول ھے کہ مَیں مردوں کو جتنا قریب سے دیکھتی ھُوں ، اُتنا ھی مجھے کُتے اچھے لگتے ھیں”
اس سے پہلے کہ ھمارا فلک شگاف قہقہہ اُن کی سماعت پر گراں گذرتا، بولے: "مرزا کے ایک دوست ھیں جو کُتیا کو کُتیا نہیں کہتے، ازراہِ احترام و عقیدت فی میل (Female) کہتےھیں۔ مرزا کو جب سے اس بات کی خبر ھوئی ھے وہ بھی احتیاطاً اپنی بیگم کو فی میل کہنے لگے ھیں”۔
بلند بانگ قہقہے ذرا تھمے تو یوسفی پینترا بدل کر عنبر سے پوچھنے لگے” آپ کہاں ھوتی ھیں ؟ اور کیا شغل فرماتی ھیں ؟”
عنبر نے بتایا کہ "ھم کراچی ھی میں ھوتے ھیں اور شاعری کرتے ھیں”۔ نسیان کے باعث یوسفی بار بار بھول جاتے تھے کہ وہ عنبر سے یہ سوال پہلے پوچھ چُکے ھیں لہٰذا اگلے ڈھائی گھنٹے میں بہت معصومیت سے بہتیری بار یہ سوال پوچھا اور ھر بار عنبر نے مسکرا کر وھی جواب دیا۔ اور تو اور "لُچّے” والے جملے سے بھی ھم بارھا شادکام ھوئے اور یوسفی کے انداز و ادا کچھ ایسے شاداب ھیں کہ ھربار پہلے سے زیادہ ھنسی آئی۔
ایک بار تو ھم نے جی کڑا کر کے پوچھ ھی لیا کہ "مُرشد ! جس لڑکی نے آپ کو لُچا کہا، آپ اُس پر برھم نہیں ھوئے ؟”
معصوم سی شکل بنا کر کہنے لگے: "نہیں، میاں ! کہتی تو وہ ٹھیک ھی تھی”
پھر کمرے کے اطراف و اکناف پر ایک یوسفیانہ نظر ڈال کر بولے کہ ” وہ سامنے راجھستانی آرٹ کے دو نایاب نمونے ھیں۔ راجھستانی راجہ اور رانی کی ایسی انوکھی شبیہیں جو مُنّے مُنّے موتیوں سے بنائی گئی ھیں۔ ھماری کتاب آبِ گُم کا ھندی میں ترجمہ ھُوا۔ پبلشر موصوف ھم سے ملنے آئے تو کہنے لگے کہ یوسفی صاحب ! رقم کی صورت میں نذرانہ تو ھم دے نہیں پائیں گے سو یہ دو نادر پینٹگز نذر ھیں۔ گر قبول اُفتد وغیرہ۔ سو ھم نے رکھ لیں کہ "نہیں جو مال میسر، مصوّری ھی سہی۔”
ھم نے قریب سے جاکر مصوری کے وہ شاھکار دیکھے۔ واقعی شاھکار تھے۔ واپس آکر صوفے پر بیٹھے تو یُوسفی کہنے لگے کہ "آئل پینٹنگ اور اُدھیڑ عُمر عورت دُور ھی سے دیکھنے پر اچھی لگتی ھیں”
ھم اس جُملے کی اُدھیڑ بُن میں گُم تھے کہ عنبر نے پوچھ لیا کہ "یوسفی صاحب ! آج کل آپ انٹرویو دیتے ھیں کیا ؟”
بولے: "کچھ دن قبل ایک مُحترمہ انٹرویو لینے آدھمکیں۔ پہلا سوال ھی یہ کیا کہ یوسفی صاحب ! آپ نے کبھی عشق کیا ھے ؟ ھم نے کہا: بی بی ! ابھی تو آپ ٹھیک سے بیٹھی بھی نہیں اور یہ مُطالبہ ؟”
ھنس ھنسا چُکنے کے بعد ھماری باری تھی کچھ کہنے اور (کھری کھری) سُننے کی۔ سو ھم نے پوچھ لیا کہ آج کل کیا مصروفیات ھیں ؟
کہنے لگے کہ "میاں ! انسان اُس وقت تک کلچرڈ نہیں ھوسکتا جب تک کہ اپنی ھی کمپنی سے محظوظ ھونا نہ سیکھ لے۔ ھے آدمی بجائے خود اک محشرِ خیال”
ھم نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا کہ "مرشد ! آپ ھی نے لکھا ھے کہ کلچرڈ آدمی کی ایک پہچان یہ بھی ھے کہ مارلین منرو کے سراپا کی گولائیوں کو ھاتھ ھلائے بغیر بیان کرسکے”۔
کھلکھلا کر ھنس پڑے۔ اتنے میں عنبر نے پوچھا کہ "یوسفی صاحب ! پھلوں میں کیا پسند ھے ؟”
بولے: "ڈرائی فروٹ۔ خاص کر نکاح کا چھوارا۔ ویسے تو مونگ پھلی بھی پسند ھے مگر مونگ پھلی اور آوارگی میں خرابی یہ ھے کہ آدمی ایک دفعہ شروع کردے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ختم کیسے کرے”
تھوڑا سا ھنس ھنسا کر بولے: "بھئی آجکل مونگ پھلی پھانکنے کا وقت کس کے پاس ؟ اب تو کمپیوٹرائزڈ تیزرفتار دور ھے۔ ھماری یہ حالت ھے کہ ایک اچھا جملہ تین چار دن تک نہال اور سرشار کیے رکھتا ھے”
ڈیڑھ گھنٹے کی لذت آمیز و قہقہہ آور گفتگو کے بعد ھم اور عنبر آنکھوں ھی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اُٹھنے کے اشارے کرنے لگے کہ یوسفی زیادہ دیر بیٹھ کر کہیں تھک نہ جائیں سو ھمیں چلنا چاھئے اب۔
یہی بات اُن سے کہی تو بولے: "بھئی جانے کا کوئی اور بہانہ تلاش کرو”
عنبر بولیں کہ "یوسفی صاحب ! ھم تو جانے کا نام نہیں لیں گے۔ آپ ھی کی تھکان کا خیال ھے”
جواب میں عنبر سے کہنے لگے: "بھئی آپ کی قمیص بہت خوبصورت ھے۔ (پھر ھلکے سے توقف کے ساتھ) اب ھم قمیص سے دھیرے دھیرے شمال کی جانب جائیں گے۔ (ھلکی سی مسکراھٹ کے ساتھ) یہ قمیص اتنی خوبصورت ھے کہ ھمارا بھی ایسے کپڑے پہننے کو دل چاہ رھا ھے”۔
یوسفی اب مکمل چارج ھوچکے تھے۔ عنبر نے پوچھا کہ "اپنی کمپنی انجوائے کرنے کے لیے کیا کرنا چاھئیے ؟”
بولے: "ایسے دوست بنائیے اور ایسی کتابیں پڑھیے کہ جو آپ کو سوچنے کی تحریک دیں”
عنبر بولیں "اور اگر ایسے دوست نہ ھوں تو ؟”
"ایسی حالت میں عام طور سے لڑکیاں شادی کرلیتی ھیں”
حسیب بھائی کافی دیر سے خاموش بیٹھے تھے۔ ھم نے کہنی سے ٹہوکا دیا کہ کچھ کہیے تو کہنے لگے کہ "یوسفی صاحب ! ھم نے اور عنبر نے شادی تک ایک دوسرے کو نہیں دیکھا تھا”
یوسفی بولے: "پرانے زمانے میں بھی دلہا دلہن کو ایک دوسرے کے چہرے آئنے میں دکھانے کی رسم (آرسی مصحف) نکاح کے بعد ھُوا کرتی تھی۔ نکاح سے پہلے چہرے دکھانے میں کسی ایک یا دونوں فریقوں کے بدکنے اور نکاح کینسل ھوجانے کا ڈر تھا”
ھم نے ھنستے ھوئے کہا” حالانکہ آپ نے خود ھی لکھا ھے کہ نکاحِ مردِ مومن سے بدل جاتی ھیں تقدیریں”
کہنے لگے: ” بھئی ھمارے ھاں کراچی میں مردِ مومن کو مردِ میمن کہا جاتا ھے”
باتوں باتوں میں انور مقصود، فاطمہ ثریا بجیا اور زبیدہ آپا کا ذکر آیا تو کہنے لگے کہ "زبیدہ آپا کو دال بگھارنے کی رائلٹی ملتی ھےجبکہ ھمیں شیخی بگھارنے کی”
قہقہے لگ چُکے تو ھم نے پوچھا کہ "آج کل کیا پڑھ رھے ھیں ؟”
ھلکے سے تبسم کے ساتھ فرمایا: "انگریزی ادب زیرِ مطالعہ ھے۔ کیونکہ اُردو کا فکشن اور بیشتر ناول ایسے ھیں کہ بندہ بیوی کو مُنہ دکھانے کے لائق نہیں رھتا”
حسیب بھائی دوبارہ گفتگو میں تشریف لائے: یوسفی صاحب ! آپ کو کونسا موسم اچھا لگتا ھے ؟”
فرمایا: "اپنے اندر کا موسم۔ اُس سے جُڑ جائیں تو باھر کی گرمی سردی کی کیا فکر !”
پھر عنبر سے کہنے لگے: "اقبال کا مصرعہ ھے کہ گوھرِ تابدار کو اور بھی تابدار کر۔ اس میں آپ گوھر کے لفظ کو شوھر سے بدل کر اپنے شوھر کو سُنا سکتی ھیں”
ھر ھر جُملہ ایسا تھا کہ قربان جائیے۔ ھم نے پوچھا کہ "آپ نے اپنی تمام تصنیفات میں کھانے پینے کا بہت ذکر کیا ھے۔ اس کی کیا وجہ ھے ؟”
کہنے لگے: "لڑکپن اور جوانی میں جب بدمعاشی کے تمام ذرائع بزرگوں نے بند کردیے تو کھانا پینا ھی بچا تھا”
عنبر نے موقع دیکھ کر کہا کہ "فارس ! بہت باکمال شاعر بھی ھیں”
ھمیں دیکھ کر کہنے لگے: "میاں ! کچھ ھوجائے پھر ؟”
ھم ایک دم گڑبڑا گئے، کہاں یوسفی جیسا نابغۂ روزگار، کہاں ھماری تُک بندیاں۔ عرض کی کہ "یوسفی صاحب ! اب آپ کو بھلا ھم کیا سُنائیں”
کہنے لگے: "اچھا ! تو آپ ھمیں اس قابل نہیں سمجھتے”
ھم نے ڈرتے ڈرتے تین شعر پیش کیے۔ پہلے دو پر بھرپور داد دی جو تاعُمر ھمارا اثاثہ رھے گی۔ شعر یُوں تھے:
 
خوشبوئے گُل نظر پڑے، رقصِ صبا دکھائی دے
دیکھا تو ھے کسی طرف، دیکھیے کیا دکھائی دے
تب مَیں کہوں کہ آنکھ نے دید کا حق ادا کیا
جب وہ جمالِ کم نُما دیکھے بِنا دکھائی دے !
 
تیسرا شعر پڑھا تو یُوسفی نے ایک تاریخی جُملہ کہا۔ شعر تھا کہ:
 
دیکھے ھُوؤں کو بار بار دیکھ کے تھک گیا ھُوں مَیں
اب نہ مُجھے کہیں کوئی دیکھا ھُوا دکھائی دے !
 
شعر سُن کر مسکرائے اور فرمایا: ” بھئی ! مردوں کی بدنیتی کی کیا خوب شاعرانہ تاویل لائے ھیں آپ”
ھم عش عش کر اُٹھے حالانکہ غش کھانے کا مقام تھا۔
ڈھائی گھنٹے کی نشست کے بعد بھی یوسفی کے وھی چہچہے تھے، وھی ھمھمے اور وھی ولولے۔ ھم نے یوسفی کے ساتھ ڈھیر ساری تصاویر بنائیں اور رخصت چاھی۔ اٹھتے اٹھتے عنبر نے مشہور جُملہ داغنے کی کوشش کی کہ "ھم اردو مزاح کے عہدِ یوسفی میں زندہ ھیں۔”
کہنے لگے: "جو کہتا ھے کہ ھم اُردو مزاح کے عہدِ یوسفی میں زندہ ھیں وہ خود کو زلیخا سمجھتا ھے”
ھم قہقہے لگاتے اٹھے اور کمرے سے دالان تک آنے کے لیے مُرشد کو اپنے کاندھے کا سہارا پیش کیا۔ ھمارے کاندھے پر ھاتھ رکھ کر دوسری طرف کھڑی عنبر سے کہنے لگے: ” بھئی ! آپ بھی تو سہارا دیجے”
پھر عنبر کے کاندھے پر ھاتھ رکھ کر بولے: "ھماری عُمر میں لاکھوں میں سے ایک آدھ مرد میں شرارت اور بدمعاشی بچتی ھے۔ ھم وھی ایک آدھ ھیں”
رخصتی قہقہے سے اُن کے گھر کا دالان گونج اُٹھا۔ ھم بے اختیار یوسفی صاحب کے گلے لگ گئے۔ پاؤں چھوئے۔ عقیدت آنسو بن کر آنکھوں سے جاری تھی۔ مُشتاق احمد یُوسفی کروڑوں لوگوں کے دلوں میں بستے ھیں مگر ھم اُن کے خاص الخاص عاشق ھیں۔ مولائے سخن اُن کو عمرِ خضر عطا فرمائے کہ ریاکار لکھاریوں، شاعر نُما مداریوں اور شہرت کے پُجاریوں کے دور میں یہ شخص سَچّا، سُچّا، کھرا اور خالص فنکار ھے !
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ھیں ھم
تعبیر ھے جس کی حسرت و غم، ات ھم نفَسو ! وہ خواب ھیں ھم
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یمین و یسار
سامنے رَوضے کی جالی تھی مگر چُومی نہیں
آج کے بعد اگر آیا تو کیا آیا تُو
بیٹھے ھیں چَین سے ، کہیں جانا تو ھے نہیں
اگرچہ یہ چاند پر کسی آدمی کا پہلا قدم نہیں ھے
نم دیدہ دعاؤں میں اثر کیوں نہیں آتا ؟
دُھوپ میں جیسے پھول ستارہ لگتا ہے
وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
شامی بچوں کا نوحہ
ہمارا بخت ہی ایسا کرخت نکلے گا

اشتہارات