اردوئے معلیٰ

مہتاب و آفتاب نہ ان کی ضیا سے ہے

جو نور کائنات میں مہرِ حرا سے ہے

 

قاسم ہیں جب حضور تو پھر کیوں نہ سب کہیں

جو کچھ بھی مل رہا ہے انہی کی عطا سے ہے

 

کرنا سلام عرض مرا بھی حضور سے

اتنی سی التجا مری بادِ صبا سے ہے

 

عشقِ رسولِ پاک میں گزرے تمام عمر

میری دعا یہ خالقِ ارض و سما سے ہے

 

کرتا ہوں ناز میں بھی مقدر پہ اس لیے

وابستگی مری بھی درِ مصطفی سے ہے

 

آئے گی موت مجھ کو نہ دیدار کے بغیر

رکھی امید میں نے یہ اپنے خدا سے ہے

 

دنیا و قبر و حشر میں آصف ہزار شکر!

پہچان میری اپنے نبی کی ثنا سے ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات