میری جانب بھی ہو اک نگاہِ کرم، اے شفیع الواریٰ، خاتم الانبیاء

 

میری جانب بھی ہو اک نگاہِ کرم، اے شفیع الواریٰ، خاتم الانبیاء

آپ نورِ ازل، آپ شمعِ حرم، آپ شمس الضحٰی، خاتم الانبیاء

 

آپ ہیں حق نگر، آپ ہیں حق رساں، سدرۃ المنتہٰی آپ کے زیرِ پا

آپ ہیں مظہرِ ذاتِ رب العٰلی، رہبرِ حق نما، خاتم الانبیاء

 

اے فصیح البیاں، اے بلیغ اللساں، اے وحید الزماں ماورائے گماں

آپ کا نور ہے از کراں تا کراں، شاہدِ کبریا، خاتم الانبیاء

 

مرسلِ مرسلاں، سرورِ عرشیاں، ہادیِ انس و جاں، مقبلِ مقبلاں

آپ کی ذات ہے باعثِ کُن فکاں، رازِ ارض و سما خاتم الانبیاء

 

آپ فخرِ عجم آپ شانِ عرب، آپ فضلِ اتم، آپ رحمت لقب

سرورِ ذی حشم، شاہ والا نسب، مرتضٰی، مجتبٰی، خاتم الانبیاء

 

آپ ہیں وجہِ تخلیقِ کون و مکاں، آپ کے دم سے ہیں یہ زمیں آسماں

آپ ہیں بےنشانی کا بیّن نشاں، اے شہ دوسرا، خاتم الانبیاء

 

آپ کے سر پہ لولاک کا تاج ہے، آپ ہی کو فقط فخرِ معراج ہے
آپ کے ہاتھ اسلام کی لاج ہے، یا نبی مصطفٰی خاتم الانبیاء

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بعد ثنائے ربِّ معظَّم، نعتِ نبی ہو جاری پیہم
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات
خدا کی خاص رحمت اور کرم سے 
پھر قصیدہ حُسن کا لکھا گیا
شہِ بطحا کی یہ چوکھٹ ہے، پشیماں کیوں ہے
ہر گھڑی ہے تمنا یہی یا نبی
شجر کے دل میں گھاؤ کر گیا ہے
لبوں سے اسمِ محمد کا نور لف کیا ہے
اذاں میں اسمِ نبی سن لیا تھا بچپن میں
ترے نام کے نور سے ہیں منور مکاں بھی مکیں بھی

اشتہارات