اردوئے معلیٰ

میری زباں پہ وردِ الف لام میم ہے

یہ ابتدائے حمدِ خدائے کریم ہے

 

روزِ ازل سے تا بہ ابد ہے وہ جلوہ گر

لاریب اس کی ذات قدیم القدیم ہے

 

وہ جانتا ہے کس کی ضرورت ہے کس قدر

وہ بے طلب بھی دیتا ہے ایسا کریم ہے

 

لا تقنطو بھی شان اُسی کی ہے عاصیو

گھبرا رہے ہو کیوں وہ غفور الرحیم ہے

 

میں کیا کروں گا اس کی ثنا ، جانتا ہوں میں

میری حقیر فکر ہے اور وہ عظیم ہے

 

یہ بھی کرم ہے اُس کا بہ فیضِ رسولِ حق

میں جس پہ گامزن ہوں رہِ مستقیم ہے

 

خاکی امیر کہہ گئے کس سادگی کے ساتھ

"​بندہ گناہ گار ہے خالق کریم ہے”​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات