اردوئے معلیٰ

میری ہر دھڑکن عبادت ہے تری، میرے خدا

ہے عطا تیری کہ اب ہے شاعری میری وفا

 

صور اسرافیل کی جب قبر میں آئے ندا

آنکھ میں کھولوں تو لب پر ہو درودِ مصطفیٰ

 

تُو تو کہتا ہے، تجھے کوئی نہیں ہے دیکھتا

میں نے دیکھا ہے تجھے، اپنے ہی دل میں اے خدا

 

تجھ سے پوشیدہ مرا، کوئی عمل ممکن نہیں

تو جہاں ہوتا نہیں، ایسی جگہ کوئی بتا

 

میں جبیں رکھ دو جہاں، ہوتے ہیں میرے سامنے

تیرے جلوے آشنا، قدرت تیر ی، تری عطا

 

خالق ومسجود تو ہے، رازق و معبود تُو

تو خدا، جلوے ترے، تیری عطا میری ضیا

 

ہیں جبین ناز میں جلوے ترے، دل میں مرے

نور کے جلوے ترے، محبوب تیرے مصطفیٰ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات