میرے آقا، میرے مولا، میرے رہبر آپؐ ہیں

میرے آقا، میرے مولا، میرے رہبر آپؐ ہیں

میرے مونس، میرے ہمدم، میرے ناصر آپؐ ہیں

 

آپؐ ہی ہیں دل نواز و دل پذیر و دلنشیں

میرے دل آرا و دل کش، میرے دلبر آپؐ ہیں

 

انبیا سارے ہیں مانندِ ہجومِ اختراں

آپؐ ہیں ماہِ مبیں، ماہِ منور آپؐ ہیں

 

آپؐ ہیں شمس الضحیٰ، بدرالدجیٰ، نور الہدیٰ

آپؐ ہیں صادق امیں، رحمت کا پیکر آپؐ ہیں

 

جاری و ساری کیا جس نے کلامِ کبریا

وہ معلم، وہ مدرس، وہ مقرر آپؐ ہیں

 

آپؐ ختم الابنیا ہیں، آپؐ ختم المرسلیں

وہ جو محبوبِ خدا ہیں، وہ پیمبر آپؐ ہیں

 

ہے ظفرؔ بھی آپؐ سے لطف و کرم کا خواست گار

حلم و عفو درگزر کا اک سمندر آپؐ ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جسے عشق شاہ رسولاں نہیں ہے
دیکھوں جدھر بھی تیرا ہی جلوہ ہے رُو برُو
کتنا سادہ بھی ہے سچا بھی ہے معیار ان کا
کرے انساں جو انساں سے بھلائی
اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا
خدا کے نُور سے روشن جہاں ہیں
یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے
عظیم المرتبت ربّ العلیٰ عظمت نشاں ہے
اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے
معظم ہے خدا ہی محترم ہے

اشتہارات