میرے اشکوں میں مری فریاد، دل برسائے گا

میرے اشکوں میں مری فریاد، دل برسائے گا

ایک ’’اللہ ہو‘​‘​ مری رحمت کی برکھا لائے گا

 

دیکھنا اُس وقت بھی لب پر مرے حمد و ثنا

اس جہاں سے جب کبھی ہجرت کا لمحہ آئے گا

 

میرے دل پر نقش ہے کعبے کے منظر میں خدا

اب بھلا اس دشت میں ہے کون جو بہکائے گا

 

ہے مرا ایمان، کر کے ذکر، جو سوجاؤں میں

خواب میں مولا مجھے، کعبہ بھی تو دکھلائے گا

 

سامنے محشر میں مولا، سر اُٹھا کر آؤں میں

بس کرم، جوشِ شہادت کا جو تو فرمائے گا

 

ہو گی محبوبؐ خدا کی یاد میں جب نعت تو

میرا گھر گلؔ دیکھنا، جنت سماں بن جائے گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا
اللہ ! تو رَحْمٰنُ و رحِیْمْ
لبِ ازل کی صدا لَا اِلٰہ اِ لّا اللہ
تیری قدرت کی خوشبو، ہر گل ہر ذرے میں تُو
خدا نے مجھ کو یہ اعزاز بخشا
خدا کا شُکر کرتا ہوں، خدا پر میرا ایماں ہے
خدا اعلیٰ و ارفع ہے، خدا عظمت نشاں ہے
حرم کے سائے میں سارے مسلماں رُوبرو بیٹھیں
خدا کے حمد گو جنگل بیاباں
جو احکامِ خدا سے بے خبر ہے