میرے آقا آپ کے قدموں میں آنا زندگی

میرے آقا آپ کے قدموں میں آنا زندگی

آپ کی اُلفت کے سائے میں ہے جینا زندگی

 

آپ کے دربار سے جو بٹ رہا ہے یانبی

خوانِ فَضلُ اللہَ جس کا دانہ ، دانہ زندگی

 

خوش نصیبی اور مشکل میں پرکھ کر دیکھ لو

محفلِ ذکرِ نبی میں آنا ، جانا زندگی

 

آپ کے عشاق نے ثابت کیا ہر موڑ پر

دار ہو یا تخت راہِ حق پہ چلنا زندگی

 

آپ سے شاداب ہے میری اُمیدوں کا چمن

آپ سے پُر نور ہے دل کا نگینہ زندگی

 

تشنہ لب ہوں ساقیء کوثر پلا دیجے مجھے

ایک پیالہ آبِ کوثر کا جو پینا زندگی

 

پُرسشِ اعمال کے موقع پہ میرے چارہ گر

آپ کا محشر میں بڑھ کر بخشوانا زندگی

 

نوعِ انساں کی بھلائی کے لیے بھی یا کریم

اس جہاں میں آپ کا تشریف لانا زندگی

 

گردشِ دنیا سے جب دم گھُٹنے لگتا ہے رضاؔ

نعت کہتا ہوں سنا ہے نعت کہنا زندگی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات