اردوئے معلیٰ

Search

میرے مالک تری حمد اور ثنا مشکل ہے

نہ زباں اہل ہے میری نہ دل اس قابل ہے

 

چھوٹا منہ اور بڑی بات ارے توبہ توبہ

تو کہاں میں کہاں تو حق ہے بشر باطل ہے

 

تو ہے وہ ذات کہ اپنے آپ پہ ہے ناز تجھے

میں وہ انسان جو خود اپنے سے بھی بیدل ہے

 

تیرے علموں کی حدیں راز ترے علم میں ہیں

اور جہالت پہ مری خود مرا دل قائل ہے

 

تو وہ اک ذات کہ افشا ہو تو آفت ہو جائے

میں وہ گتھی ہوں جو سُلجھے بھی تو لاحاصل ہے

 

تو وہ کامل کہ کمالوں کی ہے تجھ سے تکمیل

میں وہ ناقص ہوں کہ ہر نقص مرا کامل ہے

 

تو وہ باقی کہ بقا کو بھی بقا ہے تجھ سے

میں وہ فانی ہوں کہ ہر دم میں فنا شامل ہے

 

تیرے محکوم ہیں خورشید و مہ و ابر و ہوا

میرے بس میں نہ مرا نفس نہ میرا دل ہے

 

تو وہ بے جسم کہ ہر دل میں بنا ہے ترا گھر

میں وہ ذی روح کہ گھر ہے نہ کہیں منزل ہے

 

تو نے کُن کہہ کے بنا ڈالے یہ دونوں عالم

اپنی بگڑی بھی بنا لینا مجھے مشکل ہے

 

سب سے پہلے وہ بنایا جو اک انساں تو نے

جس کی تخلیق میں کچھ نور ترا شامل ہے

 

جس کا محبوب ہے تو اور وہ تیرا ہے حبیب

جو رسولوں کا رسول اور بشرِ کامل ہے

 

تو ہی کچھ وصف بیاں کر مرے مالک اُس کے

میرے نزدیک تو اس کی بھی ثنا مشکل ہے

 

وہ ہو یا اس کا ولی ہو کہ ہو اُس کی اولاد

ذکر سب کا سببِ رونقِ ہر محفل ہے

 

تو وہی ہے میرے مالک جو ہے مالک میرا

میں وہی ہوں ، وہی منظرؔ جو ترا سائل ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ