اردوئے معلیٰ

میر انیس کی برسی

آج ممتاز مرثیہ گو شاعر میر انیس کی برسی ہے۔

میر انیسببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔
مولوی حیدر علی اور مفتی حیدر عباس سے عربی، فارسی پڑھی۔ فنونِ سپہ گری کی تعلیم بھی حاصل کی۔ فنِ شہسواری سے بخوبی واقف تھے۔
شعر میں اپنے والد سے اصلاح لیتے تھے۔ پہلے حزیں تخلص تھا۔ شیخ امام بخش ناسخ کے کہنے پر انیسؔ اختیار کیا۔ ابتدا میں غزل کہتے تھے۔ مگر والد کی نصیحت پر مرثیہ کہنے لگے اور پھر کبھی غزل کی طرف توجہ نہیں کی۔ اس خاندان میں شاعری کئی پشتوں سے چلی آتی تھی۔ آپ کے مورثِ اعلیٰ میر امامی شاہ جہاں کے عہد میں ایران سے ہند میں آئے تھے اور اپنے علم و فضل کی بنا پر اعلیٰ منصب پر متمکن تھے۔ ان کی زبان فارسی تھی لیکن ہندوستانی اثرات کے سبب دو نسلوں کے بعد ان کی اولاد فصیح اردو زبان بولنے لگی۔ میر انیس کے پردادا اور میر حسن کے والد میر غلام حسین ضاحک اردو کے صاحبِ دیوان اور غزل گوشاعر تھے۔ گویا میر انیس کے گھر انے کی اردو شاعری کا معیار تین نسلوں سے متقاضی تھا کہ وہاں میر انیس جیسا صاحب سخن پروان چڑھے اور تا قیامت اہلِ ادب اُسے خدائے سخن کے نام سے پکارتے رہیں۔
———-
غزل سے مرثیے تک
———-
میر انیس ابتدا میں غزل کہتے تھے مگر والد کی نصیحت پر صرف سلام اور مرثیہ کہنے لگے اور پھر ایسے منہمک ہوئے کہ کبھی غزل کہنے پر توجہ ہی نہیں دی۔ محمد حسین آزاد نے کیا خوبصورت تبصرہ فرمایا ہے کہ
والد کی فرماں برداری میں غزل کو ایسا چھوڑا کہ بس غزل کو سلام کر دیا۔
ناصر لکھنوی نے خوش معرکہء زیبا (مرتّبہ مشفق خواجہ کراچی ) میں لکھا ہے کہ غزلیں انہوں نے دانستہ ضاِئع کر دی تھیں مگر پندرہ سولہ غزلیں جو محققین کو دستیاب ہوئی ہیں وہ انیس کی غزل گوئی پر فنی قدرت کی واضح ترین دلیل ہیں۔ چند شعر دیکھیے
———-
شہیدِ عشق ہوئے قیسِ نامور کی طرح
جہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرح
کچھ آج شام سے چہرہ ہے فق سحر کی طرح
ڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح
انیس یوں ہوا حالِ جوانی و پیری
بڑھے تھے نخل کی صورت گِرے ثمر کی طرح
———-
یہ اشعار بھی دیکھیے
———-
نزع میں ہوں مری مشکل کرو آساں یارو
کھولو تعویذِ شفا جلد مِرے بازو سے
———-
انیس دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاؤ
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
———-
اپنے بیٹے میر نفیس کی ولادت کے بعد پہلے 1859ء میں مرثیہ پڑھنے عظیم آباد گئے۔ اور پھر 1871ء میں نواب تہور جنگ کے اصرار پر حیدر آباد دکن کا سفر کیا۔
———-
لکھنوی ماحول اور انیس
———-
مرثیہ کی میراث انیس کو اجداد سے منتقل ہوئی تھی مگر ان کی طبعِ رواں ذاتی لیاقت کربلا سے ایمانی وابستگی اور شاہانِ اودھ کے عہد حکومت میں لکھنؤ کے اندرعزاداری کے لیے مثالی ماحول کی دستیابی نے انیس کو مرثیہ نویسی اور مرثیہ خوانی کے فن میں طاقِ روزگار بنا دیا اور کچھ ہی عرصہ میں انیس نے سلاستِ زبان، ادائیگی اور حسنِ بیان میں اپنے عہد کے راسخ البیان مرثیہ گو استادجناب میرزا سلامت علی دبیر اور دیگر اساتذہ ٔفن کو بھی مقبولیت میں قدرے پیچھے چھوڑ دیا۔ انیس کا معمول تھا کہ شب بھر جاگتے اور مطالعہ و تصنیف میں مصروف رہتے تھے۔ ان کے پاس دوہزار سے زائد قیمتی اور نایاب کتب کا ذخیرہ موجود تھا۔ نمازِ صبح پڑھ کر کچھ گھنٹے آرام کرتے تھے۔ بعدِ دوپہر بیٹوں اور شاگردوں کے کلام کی اصلاح کرتے تھے۔ محفلِ احباب میں عقائد اور علوم وعرفانیات پر گفتگو کرتے تھے۔
———-
یہ بھی پڑھیں :
———-
مراثیِ انیس کی تعداد
———-
میر ببر علی انیس کو دشت کربلا کا عظیم ترین سیّاح قرار دیا گیا ہے۔ اُن کے مرثیوں کی تعدا د بارہ سو (1200) کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے۔ مجلّہ نقوش انیس نمبر میں بہ تحقیقِ عمیق میر انیس کے 26 نایاب اور غیر مطبوعہ مراثی طبع کیے گئے ہیں۔ محققین کے مطابق ان کے کئی مرثیے ابھی تک غیر مطبوعہ حالت میں مختلف بیاضوں کے اندر موجود ہیں۔ میر انیس نے روایتی مرثیہ کے علاوہ سلام، قصائد، نوحہ اور رباعیات کا بھی کثیر ذخیرہ چھوڑا ہے۔ رباعیاتِ انیس کی تعداد محققین کے مطابق چھ سو(600) کے برابر ہے۔ میر انیس کے کئی مراثی میں معجزاتی کرشمہ کاری کا عنصر ملتا ہے۔ آپ کے ایک نواسے میر عارف کی تحریری یادداشت سے پتہ چلتا ہے کہ 1857ء کے اواخر میں میر انیس نے ایک سو ستاون (157) بند یعنی ایک ہزار ایک سو بیاسی (1182) مصرعوں کا یہ شاہکار مرثیہ جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے ایک ہی شب میں لکھا اوراپنے خاندان کے عشرۂ مجالس میں پڑھا۔ میر انیس کے تین فرزندان تھے میر نفیس، میر جلیس اور میر سلیس اور یہ تینوں منجھے ہوئے شاعر و مرثیہ نگار تھے۔ والد کے بعد میر نفیس کا مرثیہ اعلٰی پائے کی مرثیہ نگاری میں شمار ہوا ہے۔
———-
مرثیے کی ترقی
———-
انیس نے مرثیے کو ترقی کے اعلیٰ درجے پر پہنچایا۔ اردو میں رزمیہ شاعری کی کمی پوری کی۔ انسانی جذبات و مناظر قدرت کی مصوری کے ذریعے زبان میں وسعت نکالی۔ سلام اور رباعیوں کا شمار نہیں۔ مرثیوں کی پانچ جلدیں طبع ہوچکی ہیں۔
———-
میر انیس کے مرثیوں کا مختصر فنّی جائزہ
———-
جنابِ انیس کے رقم کردہ مرثیے اب تک کروڑوں آنکھوں، زبانوں اور سماعتوں کو اپنے ملکوتی خصائل کا گواہ بنا چکے ہیں۔ انیس کے کہے ہوئے مرثیوں میں آیات و روایات، تاریخ، تخیئل، ماحول، سراپا، رَجَز، مظلومیت، آہ و بکا، مکالمات، اعداد و شمار، منطق و فلسفہ، علومِ جہانی اور اصول و عقائد کے مفاہیم کی ایسی متوازن آمیزش ملتی ہے کہ انیس کے علم و فضل کی وسعتیں بیکراں محسوس ہونے لگتی ہیں۔ انیس نے دبیر کے مقابلہ میں سلیس زبان استعمال کی۔ اس کے باوجود اردو ادب کے محققین کے مطابق طولِ تاریخ میں تراکیب و فرہنگ کا سب سے عظیم ذخیرۂ الفاظ میر انیس کے کلام میں ملتا ہے۔ عروض و قوافی، صرف و نحو، تراکیب، صنائع و بدائع ،محاکات، محاورات اور بندشیں ان کے یہاں دست بستہ نظر آتے ہیں۔ مرثیہ بیانیہ شاعری کا نام ہے۔ انیس نے اس میں ایک ناظر کی حیثیت سے خارجی اندازِ ملاحظہ اور مرثیے کے کرداروں کی اپنی داخلی کیفیات کو بیک وقت یک جا کر کے واقعہ نگاری کو معجزاتی انداز تک متحرّک اور بے نظیر بنا دیا ہے۔ میر انیس کا اجتماعی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مرثیہ نگاری کو ایک سماجی رسم کے درجہ سے اٹھا کے نفیس ترین ادبی صنف اور مرثیہ گوئی کو فنِّ لطیف میں بدل دیا ہے۔
———-
یہ بھی پڑھیں :
———-
میر انیس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ ان کے مرثیے ایک خاص تاریخی واقعے سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ اس تاریخی واقعے کاتعلق مذہبی جذبات سے ہے اس لیے انہوں نے اپنے مراثی میں فنکارانہ اصولوں کی پابندی سے زیادہ اپنے جذبات کو جگہ دی ہے اس طرح یہ جذباتیت ان کی واقعہ نگاری کوعمودی(Vertical) طور پر پرُاثر توضرور بنا دیتی ہے مگر افقی (Horizontal) طور پر شاعرانہ حسن کو فوت کر دیتی ہے . مگرڈاکٹرفرحت نادر رضوی نے اپنی کتاب "میر انیس اور قصہ گوئی کا فن” میں جو ان کی اس تحقیقی کاوش کا ثمرہ ہے جو انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی میں اپنی ڈاکٹریٹ کی ریسرچ کے درمیان انجام دی اور جس کی اشاعت لکھنؤ ایجوکیشنل اینڈ ڈیویلپمنٹ ٹرسٹ نے کی ہے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میر انیس کے مرثیے اپنے اندر وہ تمام صفات بدرجہ اتم رکھتے ہیں جو کسی واقعے کے بیان کو ایک کامیاب قصے کے درجے پر فایض کرنے کے لیے ضروری ہیں اور وہ اجزا ہیں: اسرار، تجسّس، خلش، تصادم اور منتہائے بیان۔ یہ تمام اجزا نہ صرف یہ کہ انیس کے مرثیوں میں موجود ہیں بلکہ احسن طریقے پر موجود ہیں اور کہیں کہیں تو میر انیس بیانِ قصہ میں داستان اور مثنوی سے بھی بہت آگے نکل گئے ہیں درآں حالیکہ مرثیوں میں پیش کیا جانے والا قصہ ایک حقیقی تاریخی واقعہ ہے اور اس اعتبار سے میر انیس بڑی مجبوریوں کے اسیر ہیں کہ تاریخی واقعات سے پرے وہ تخیل کی وہ دنیا آراستہ نہیں کر سکتے جس کے ذریعہ داستان گویوں اور مثنوی نگاروں نے اپنی تخلیقات کو معرکتہ الا را اثرانگیزی بخشی ہے۔ ‘‘ بقول پروفیسر شبیر حسن رضوی: "مثلاً شیکسپیئر کو تعمیر واقعات وتخلیق اشخاص میں جو آزادی تھی وہ انیس کو نہ تھی انیس کا موضوع تاریخی واقعات میں محدودتھا ۔۔۔ شیکسپیئرکا کمال یہ تھا کہ فرضی واقعات اور موہوم کرداروں کی ایسی پیچیدہ تعمیرو تخلیق کی جو واقعی صورت حال اور حقیقی شخصیتوں سے متوقع ہے ۔۔۔ انیس کا کمال یہ ہے کہ تاریخ کے متحجرواقعات اور سوانح و سیر کے سادہ خاکوں میں زندگی کا رنگ بھر کراس طرح نگاہوں کے سامنے پیش کر دیا کہ نہ صرف سامع و قاری کے توقعات بدرجۂ اتم پورے ہوں بلکہ اِنہیں اُن واقعات وشخصیات کو بچشمِ خود دیکھنے کا احساس ہونے لگے ۔۔۔ اس وقت شیکسپئر کے ڈراموں ۔۔۔ وغیرہ سے اردو مرثیوں کا موازنہ مقصود نہیں ہے بلکہ صرف اتنا کہنا چاہتاہوں کہ عالمی ادب کے ان کارناموں کے مقابل اردو میں اگر کوئی چیز ہے تو میر انیس کے مرثیے ہیں۔”
———-
میر انیسؔ کی مرثیہ خوانی (تحت اللفظ خوانی)
———-
میر انیس ایک اعلیٰ سخنور ہونے کے علاوہ نہایت خوش آواز بھی تھے۔ نقوش کے میر انیس نمبر میں روایت نقل ہے کہ لکھنؤ کے ایک بزرگ سید محمد جعفر مرثیہ خوان تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ
میں نے بچپن میں میر انیس کو با رہا مرثیہ خوانی کرتے ہوئے سنا ہے۔ انیس کی آواز میں جو دلکشی تھی وہ کسی انسان کا تو کیا ذکر، کسی خوش الحان پرند اور باجے کی آواز میں بھی نہیں ہے۔ جب کبھی وہ بے تکلّف احباب کی صحبت میں بند کمرے کے اندر اپنے دادا میر حسن کی مثنوی پڑھتے تھے تو راہ گیر کھڑے ہو کے دیر دیر تک سنا کرتے تھے۔
منبر پہ مرثیہ تحت اللفظ میں پڑھنے میں بھی میر انیس کی مثل کوئی دوسرا نہ بن سکا۔ انیس پر لکھی گِئی کتب میں اس شانِ ادائیگی کا تذکرہ کئی راویوں کی زبان سے نقل ہوا ہے۔ کتاب واقعاتِ انیس میں علی مرزا پٹنے کا بیان ہے کہ وہ انیس کے متواتر سننے والوں میں سے تھے اور انیس بہ کمالِ توجّہ منبر سے انہیں مخاطب بھی کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں:
’’جب وہ مرثیے کا کوئی مقامِ رقّت انگیز پڑھتے تھے تو جوشِ رقت میں خود بھی بے چین ہو جایا کرتے تھے۔ ضبطِ گریہ کی غرض سے نیچے کے ہونٹ کو دانتوں سے دبا لیتے تھے جس سے داہنی جانب کا رخسار متحرّک ہو جاتا تھا۔‘‘
مولانا محمد حسین آزاد نے انیس کو لکھنؤ میں خود دیکھا تھا۔ آبِ حیات میں انہوں نے انیس کے لیے لکھا ہے:
کمال اور کلام کی کیا کیفیت بیان کروں۔ محویت کا عالم تھا وہ شخص منبر پر بیٹھا پڑھ رہا تھا اور معلوم یہ ہوتا تھا کہ جادو کر رہا ہے۔ انیس کی آواز، اُن کا قد و قامت اُن کی شکل وصورت کا انداز غرض ہر شے مرثیہ خوانی کے لیے ٹھیک اور موزوں واقع ہوئی تھی۔
مولوی عبد الحلیم شرر گزشتہء لکھنؤ میں لکھتے ہیں کہ:
———-
یہ بھی پڑھیں : عظیم مرثیہ گو شاعر مرزا سلامت علی دبیر کا یوم پیدائش
———-
میر انیس نے مرثیہ گوئی کے ساتھ مرثیہ خوانی کو بھی ایک فن بنا دیا۔
بیسویں صدی کے مرثیہ نگار شاعرجوش ملیح آبادی نے میر انیس کے لیے کہا:
———-
تیری ہر موجِ نفَس روح الامیں کی جان ہے
تُو مِری اردو زباں کا بولتا قرآن ہے
———-
اشعار
———-
امام حسینؑ میدانِ کربلا میں فوجِ یزید کو اپنا تعارف کراتے ہیں
———-
میں ہوں سردارِ شبابِ چمنِ خلدِ بریں
میں ہوں خالقِ کی قسم دوشِ محمدؑ کا مکیں
مجھ سے روشن ہے فلک، مجھ سے منوّر ہے زمیں
میں ہوں انگشترِ پیغمبرِ خاتم (ص) کا نگیں
ابھی نظروں سے نہاں نور جو میرا ہوجائے
محفلِ عالَمِ امکاں میں اندھیرا ہوجائے
———-
صبحِ عاشورہ کا منظر
———-
پھولا شفق سے چرخ پہ جب لالہ زارِ صبح
گلزارِ شب خزاں ہوا آئی بہارِ صبح
کرنے لگا فلک زرِ انجم نثارِ صبح
سرگرمِ ذکرِ حق ہوئے طاعت گزارِ صبح
تھا چرخِ اخضری پہ یہ رنگ آفتاب کا
کِھلتا ہے جیسے پھول چمن میں گلاب کا
جانشینِ رسول حضرت امام علیؑ کی مدحت
خورشیدِ حقیقت رخِ زیبائے علیؑ ہے
معراجِ امامت قدِ بالائے علیؑ ہے
ایماں جسے کہتے ہیں تولّائے علیؑ ہے
اکسیر جو ہے خاکِ کفِ پائے علیؑ ہے
ہے نام رقم عرش پہ ہمنامِ خدا کا
کیا مرتبہ ہے ذوجِ بتولِ عُذَرا کا
———-
وفات
———-
لکھنؤ میں انتقال کیا۔ اور اپنے سکونتی مکان واقع محلہ سبزی منڈی میں دفن ہوئے۔
شاعر ضیاء الحسن رضوی نے میر انیسؔ کے ایک مشہور سلام کے مقطعے کے دوسرے مصرعے سے میر انیسؔ کا مصرعۂ تاریخِ وفات نکالا جو 1874 عیسوی ہے۔
———-
اپنے بارے میں حسنؔ فرما گئے ہیں جو انیسؔ
اُس سے بہتر سالِ رحلت اور ہو سکتا نہیں
اک صدی کے بعد بھی تاریخ دیتی ہے صدا
’’جوہری بھی اس طرح موتی پرو سکتا نہیں‘‘
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر انیس ناگی کا یومِ وفات
———-
میر انیس نے اردو میں نہ صرف رزمیہ شاعری کی کمی کو پورا کیا بلکہ اس میں انسانی جذبات اور ڈرامائی تاثر کے عناصر کا اضافہ کرکے اردو مرثیہ کو دنیا کی اعلیٰ ترین شاعری کی صف میں لاکھڑا کیا۔ انہوں نے منظر نگاری، کردار نگاری، واقعہ نگاری اور جذبات نگاری کے اعلیٰ ترین نمونے پیش کیے۔ انیس نے مرثیہ کی صنف کو آسماں تک پہنچا دیا یہاں تک کہ مرثیہ اور انیس مترادف الفاظ بن گئے۔
———-
منتخب کلام
———-
کوئی انیس، کوئی آشنا نہیں رکھتے
کسی کی آس بغیر از خدا نہیں رکھتے
نہ روئے بیٹوں کے غم میں حسین، واہ رے صبر
یہ داغ، ہوش بشر کے بجا نہیں رکھتے
کسی کو کیا ہو دلوں کی شکستگی کی خبر
کہ ٹوٹنے میں یہ شیشے صدا نہیں رکھتے
حسین کہتے تھے سونے کو پاؤں پھیلا کر
سوائے قبر کوئی اور جا نہیں رکھتے
سوائے کوثر و تسنیم و خلد و باغِ بہشت
یہ اشک ہیں وہ گہر، جو بہا نہیں رکھتے
ابوتراب سے جو پیشوا کے پیرو ہیں
قدم بھی خاک پہ وہ بے رضا نہیں رکھتے
یہ غل تھا دیکھ کے رخسارۂ علی اکبر
فلک پہ شمس و قمر یہ ضیا نہیں رکھتے
قناعت و گہرِ آبرو و دولتِ دیں
ہم اپنے کیسۂ خالی میں کیا نہیں رکھتے
فشارِ قبر کا ڈر ہو تو ان کو ہو، جو لوگ
کفن میں صرّۂ خاکِ شفا نہیں رکھتے
ہمیں تو دیتا ہے رازق بغیرِ منتِ خلق
وہی سوال کریں، جو خدا نہیں رکھتے
فقیر دوست جو ہو، ہم کو سرفراز کرے
کچھ اور فرش، بجز بوریا نہیں رکھتے
غمِ حسین کے داغوں سے دل کرو روشن
خبر لحد کے اندھیروں کی کیا نہیں رکھتے
مسافرو! شبِ اول بہت ہے تیرہ و تار
چراغِ قبر ابھی سے جلا نہیں رکھتے
وہ لوگ کون سے ہیں، اے خدائے کون و مکاں
سخن سے کان کو جو آشنا نہیں رکھتے؟
نبی کے حکم سے سر پھیرنا، معاذ اللہ
وہ کون ہیں، جو یہ ماتم بپا نہیں رکھتے؟
خدا نے آیۂ تطہیر جن کو بھیجا تھا
وہ پردہ دار سروں پر ردا نہیں رکھتے
مسافرانِ عدم کا پتہ ملے کیونکر
وہ یوں گئے کہ کہیں نقشِ پا نہیں رکھتے
نہ لُوٹو آل کو، اعدا سے کہتی تھی فضّہ
نبی کی روح سے بھی تم حیا نہیں رکھتے
سکینہ کہتی تھی، کیونکر نہ دم گھٹے، اماں!
دہاں ہیں بند، جو حجرے ہوا نہیں رکھتے
غش آتا راہ میں جس دم تو کہتے تھے عابد
وہ درد ہیں جو امّیدِ شفا نہیں رکھتے
تپِ دروں، غمِ فرقت، وَرَم، پیادہ روی
مرض تو اتنے ہیں اور کچھ دوا نہیں رکھتے
فلک پہ شور تھا، کٹتا ہے حلقِ پاکِ رسول
حسین تیغ کے نیچے گلا نہیں رکھتے
جہازِ آلِ نبی کیا بچے تباہی سے
تلاطم ایسا ہے اور ناخدا نہیں رکھتے
حسین تیغوں کے نیچے سے کس طرح ہٹتے
بڑھا کے پیچھے قدم، پیشوا نہیں رکھتے
گلوئے اصغرِ معصوم و تیر، واویلا
یہ ظلم وہ ہیں کہ جو انتہا نہیں رکھتے
شہادتِ پسرِ فاطمہ کا ہے یہ الم
کہ تابِ ضبط، رسولِ خدا نہیں رکھتے
فقط حسین پہ، یہ تفرقہ پڑا، ورنہ
کسی کی لاش سے سر کو جدا نہیں رکھتے
پنہا کے بیڑیاں کہتا تھا شمر، عابد سے
میانِ حلقۂ آہن، گلا نہیں رکھتے
سویم تو باپ کا کرنے دو، کہتے تھے سجاد
یہ پھول وہ ہیں، کہ جن کو اٹھا نہیں رکھتے
کُھلے گا حال اُنہیں، جبکہ آنکھ بند ہوئی
جو لوگ، الفتِ مشکل کشا نہیں رکھتے
جہاں کی عزت و خواہش سے ہے بشر کا خمیر
وہ کون ہیں؟ کہ جو حرص و ہوا نہیں رکھتے
انیس، بیچ کے جاں اپنی ہند سے نکلو
جو توشۂ سفرِ کربلا نہیں رکھتے
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر ، ادیب اور کالم نگار انیس ناگی کا یومِ پیدائش
———-
گنہ کا بوجھ جو گردن پہ ہم اُٹھا کے چلے
خدا کے آگے خجالت سے سر جھکا کے چلے
کسی کا دل نہ کیا ہم نے پائمال کبھی
چلے جو راہ تو چیونٹی کو ہم بچا کے چلے
مقام یوں ہوا اس کارگاہء دنیا میں
کہ جیسے دن کو مسافر سرا میں آکے چلے
طلب سے عار ہے اللہ کے فقیروں کو
کبھی جو ہوگیا پھیرا صدا سُنا کے چلے
انیس! دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاؤ
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
———-
شہیدِ عشق ہوئے قیسِ نام ور کی طرح
جہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرح
کچھ آج شام سے چہرہ ہے فق، سحر کی طرح
ڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح
سیاہ بختوں کو یوں باغ سے نکال اے چرخ
کہ چار پھول تو دامن میں ہوں سپر کی طرح
تمام خلق ہے خواہانِ آبرو، یارب!
چھپا مجھے صدفِ قبر میں گہر کی طرح
تجھی کو دیکھوں گا جب تک ہیں بے قرار آنکھیں
مری نظر نہ پھرے گی تری نظر کی طرح
انیس یوں ہوا حالِ جوانی و پیری
بڑھے تھے نخل کی صورت، گرے ثمر کی طرح
———-
منتخب رباعیات
———-
عزّت رہے یارو آشنا کے آگے
محجوب نہ ہوں شاہ و گدا کے آگے
یہ پاؤں چلیں تو راہِ مولا میں چلیں
یہ ہاتھ جب اٹھیں تو خدا کے آگے
———-
رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے
وہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے
کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی
جو ظرف کہ خالی ہو صدا دیتا ہے
———-
وہ موجِ حوادث کا تھپیڑا نہ رہا
کشتی وہ ہوئی غرق، وہ بیڑا نہ رہا
سارے جھگڑے تھے زندگی کے انیس
جب ہم نہ رہے تو کچھ بکھیڑا نہ رہا
———-
خاموشی میں یاں لذّتِ گویائی ہے
آنکھیں جو ہیں بند، عین بینائی ہے
نے دوست کا جھگڑا ہے نہ دشمن کا فساد
مرقد بھی عجب گوشۂ تنہائی ہے
———-
یہ بھی پڑھیں : میر تقی میر کا یوم وفات
———-
پہنچا جو کمال کو وطن سے نکلا
قطرہ جو گہر بنا عدن سے نکلا
تکمیلِ کمال کی غریبی ہے دلیل
پختہ جو ثمر ہوا چمن سے نکلا
———-
سینے میں یہ دم شمعِ سحر گاہی ہے
جو ہے اس کارواں میں وہ راہی ہے
پیچھے کبھی قافلہ سے رہتا نہ انیس
اے عمرِ دراز تیری کوتاہی ہے
———-
گوہر کو صَدَف میں آبرو دیتا ہے
بندے کو بغیر جستجو دیتا ہے
انسان کو رزق، گُل کو بُو، سنگ کو لعل
جو کچھ دیتا ہے جس کو، تُو دیتا ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ