میوزیم

حیاتِ گزشتہ کے انمٹ خزانے
اسی آب اور تاب سے جگمگاتے ہوئے آج تک بھی
پرانے زمانے کی ہر اک کہانی کہے جا رہے ہیں
اور ان کے سرہانے
جو کاغذ کے پرزے ہین ان پہ لکھا ہے
کہ یہ چیز کیا ہے، یہ کتنی پرانی ہے
اور کن زمینوں سے ان کو برامد کیا جا رہا ہے
یہ پیتل کے زیور، یہ پتھر کی مالا
یہ مٹی سے ڈھالے گئے کچھ کھلونے
جو شیشے کے تابوت میں قید ہو کر
تماشائیوں کا تجسس بنے ہیں
تماشائیوں کو یہ بتلا رہے ہیں
"تمہیں کیا خبر ہے کہ ہم کچھ نہیں ہیں”
یہ مٹی سے ڈھالے گئے سب کھلونے
فقط اک نشانی ہیں اس طفل کی ، جو
انہیں اپنے چھوٹے سے ہاتھوں میں لے کر
نئے خواب بنتا تھا اور سوچتا تھا
کہ ہر خواب سچا ہے اور کل صبح دم
یہی خواب گھر کی منڈیروں پہ آ کر
اسے گدگدائیں گے اور یہ کہیں گے
” اٹھو شاہزادے ، صبح ہو گئی ہے”
یہ مٹی کی گڑیا ، یہ پتھر کی گاڑی
یہ پیتل کی چڑیا ، بھلا اہم کب تھیں
اگر اہم تھا تو وہی ایک بچہ
جو ان کی بدولت بہلتا رہا تھا
یہ چاندی کے کنٹھے ، یہ سونے کے کنگن
بھلا اہم کب تھے
یہ اک استعارہ تھے ان چاہتوں کا
جو اک سرو قد نوجواں کے لبوں میں
کسی کی کلائی کی خاطر چھپی تھیں
یہ جھمکے یہ بالی تو اس حسن سے خوبصورت بنی تھیں
کہ جس کو محبت کا تحفہ ملا تھا
سبھی کو خبر ہے
کہ پیتل کے چھلوں پہ ابھرے ہوئے نقش کتنے حسیں ہیں
مگر کس نے سوچا ہے اس ہاتھ کا
جو یہ پیتل کے چھلے پہنتا رہا تھا
زمانے کی فنکاریاں بھی غضب ہیں
یہ غیر اہم چیزیں ، بہت اہم کہہ کر
بڑے ہی جتن سے سنبھالی گئی ہیں
مگر ان کی ہستی کی ہر ایک توجیہہ رد کی گئی ہے
وہ معصوم بچہ کہیں کھو چکا ہے
وہ چاہت کی ملکہ بھلا دی گئی ہے
مگر ایک بچپن ، فنا کے مقابل ابھی تک کھڑا ہے
ابھی تک کوئی نقرئی مسکراہٹ کسی عشق کو دائمی کہہ رہی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شرمیلی محبوبہ سے
فراموش شدہ خدائے سخن
غبارِ غم بسلسلۂ مرگِ زوجۂ اول (1958ء)
آنکھوں پہ گرد راہ ہے اور راہ گمشدہ
ای میل E-mail
میں ہوں شکست خوردہ و ناکام و مضمحل
صداء کوئی نہیں اب کے ، فقط دہلیز پر سر ہے
چکھنی پڑی ہے خاک ہی آخر جبین کو
گر گئی یوں مری توقیر کہ اب تو مجھ کو
اناء کہ مر گئی ، خاموش کیوں نہیں ہوتی