اردوئے معلیٰ

میں آپ کے در کا ہوں گدا گر شہِ والا

ہیں آپ عطاؤں کے سمندر شہِ والا

 

محبوب ہو، یکتا ہو، معظم ہو، مکرم

ثانی نہ کوئی آپ کا ہمسر شہِ والا

 

سرکار کے القاب ہیں صادق بھی، امیں بھی

محبوبِ خُدا، نور کے پیکر شہِ والا

 

دیتے ہیں حیات آپ نئی مردہ دِلوں کو

دُکھیاروں کے ہیں آپ مبشر شہِ والا

 

تائیدِ خُداوندی اگر ہاتھ نہ تھامے

ممکن نہیں توصیفِ پیمبر شہِ والا

 

ہم نعتیہ اشعار رقم کرتے رہیں گے

یہ حسنِ عبارت ہے سراسر شہِ والا

 

ہم درد ظفرؔ کا نہیں کوئی شہِ کونین

مونس نہ کوئی آپ سے بڑھ کر شہِ والا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات