میں فقیر راہ ہوں اب شاہ کر دیجے مجھے

میں فقیر راہ ہوں اب شاہ کر دیجے مجھے

نعت کے مفہوم سے آگاہ کر دیجے مجھے

 

میں تو جوں توں آ گیا ہوں آپ ﷺ! کے دربار میں

سوز دے کر اب چراغِ راہ کر دیجے مجھے

 

بخش دیجے اب غلامی کی سند یا شاہِ دیں ﷺ!

ایک ذرّہ ہوں مثالِ ماہ کر دیجے مجھے

 

مدینہ منورہ جاتے ہوئے صبح نو بجے کے قریب درجِ بالا اشعار لکھے گئے۔ ۲۱؍ اپریل ۱۹۹۴ء

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حالِ دل پر جو عنایت کی نظر ہو جائے
خاطی ہوں سیاہ رُو ہوں خطاکار ہوں میں
نعت کا فیض عام کرتے ہیں
آپؐ جیسا حسیں نہیں کوئی
آپؐ ہی خیر البشرؐ ہیں آپؐ ہی نُورمبیں
خدا کی کبریائی ہے جہاں تک
میں اِک بھُوکا تھا پیاسا تھا مُسافر
سدا آنکھ یادِ نبی میں رہی نم
’’جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے‘‘
’’ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت‘‘