اردوئے معلیٰ

میں نے جو کوچۂ طیبہ میں فنا مانگی ہے

خلد نے ناز اٹھانے کی دعا مانگی ہے

 

جب سے چومے ہیں قدم ارض مدینہ نے ترے

بھیک میں خلد نے طیبہ کی فضا مانگی ہے

 

ہند کی کوئی بھی رت اس کو نہیں راس آئی

ان کے دیوانے نے طیبہ کی ہوا مانگی ہے

 

نجدیو! ڈر نہیں لے آؤں گا چوری سے سہی

کتنے بیماروں نے کچھ خاک شفا مانگی ہے

 

صرف جنت ہی نہیں اور بھی کچھ پائیں گے

سید کل نے جو بخشش کی دعا مانگی ہے

 

میں ہی کیا الفت ربی کو بڑھانے کو عزیز

انبیا نے بھی شہ دیں کی ادا مانگی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات