اطہر نفیس کا یوم وفات

آج ممتاز شاعر اطہر نفیس کا یوم وفات ہے۔

اطہر نفیس
(پیدائش: 22 فروری، 1933ء – وفات: 21 نومبر 1980ء)
———-
نام کنور اطہر علی خاں اور اطہر تخلص تھا۔
۲۲؍فروری۱۹۳۳ء کو علی گڑھ(بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۴۸ء میں پاکستان آگئے ۔اطہرنفیس طویل عرصے تک روزنامہ ’’جنگ‘‘ سے وابستہ رہے۔ انھوں نے کالم بھی لکھے اورمختلف عہدوں پر کام کیا۔
تمام عمر تنہا گزاری اور کسی کو اپنا شریک حیات نہیں بنایا۔
یوں تو شعرگوئی کا آغاز علی گڑھ ہی میں ہوگیا تھا لیکن سنجیدگی اور باقاعدگی کے ساتھ شعر کہنے کا سلسلہ کراچی آکر شروع ہوا۔
غزل ان کی محبوب صنف سخن تھی ، لیکن انھوں نے آزاد نظمیں بھی لکھیں ہیں ۔
اطہر نفیس کی شاعری کا مجموعہ’’کلام‘‘ کے نام سے ۱۹۷۵ء میں ’’فنون‘‘ لاہور سے شائع ہوا۔
وہ طویل علالت کے بعد ۲۱؍نومبر ۱۹۸۰ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔
———-
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا‘ اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں‘ اب سچا شعر سنائیں کیا
———-
اطہر نفیس 22 فروری 1933کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے شادی نہیں کی، تمام عمر تنہا رہے۔ قریبی دوست اس غم تنہائی کو ان اشعار کی معنویت سے منسلک کرتے ہیں:
———-
اطہر تم نے عشق کیا‘ کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا
کوئی نیا احساس ملا‘ یا سب جیسا احوال ہوا
———-
یہ بھی پڑھیں : غنچہ و گل میں نہ ہرگز مشک اور عنبر میں ہے
———-
اطہر کا پورا نام کنور اطہر علی خاں تھا، ان کے ایک بھائی کنور قمر علی خاں پولیس آفیسر تھے۔ اطہر بھائی اپنی والدہ کو آپا کہتے تھے۔ انھیں بہت چاہتے تھے، فرمانبردار اور چہیتے بیٹے بھی تھے، لیکن زندگی کی تنہائی کو دور کرنے والی بات انھوں نے کبھی نہ مانی، شاید اس لیے کہ:
———-
جل گیا سارا بدن ان موسموں کی آگ میں
ایک موسم روح کا ہے‘ جس میں اب زندہ ہوں میں
———-
اطہر مدتوں ایک اردو روزنامے کے ادبی سیکشن سے وابستہ رہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ انھوں نے ادبی صفحے کے نگراں ہونے کا کوئی ذاتی فائدہ کبھی نہیں اٹھایا، نہ انھوں نے ادبی کانفرنسوں میں شرکت کے لیے ہوائی سفر کے ٹکٹ اور اخراجات کی مانگ کی، نہ دو نمبر کے ادیبوں اور شاعروں کے گوشے مخصوص کر کے پیسہ کمایا اور نہ ہی بے توقیروں کو ’’توقیر‘‘ دے کر خود کو شرمندہ کیا۔ وہ نسلاً سورج بسنی راجپوت تھے اور راجپوتوں کی آن، شان اورکبر و ناز سب ان میں موجود تھا۔ لیکن وہ کبھی ارادتاً اس کا اظہار اپنی گفتگو میں نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ان کے مزاج کا تیکھا پن اور ذات کا احساس ان کے چہرے اور لہجے سے ہمیشہ جھلکتا تھا۔ بڑے مہذب، شائستہ اور دھیمے مزاج کے انسان تھے جو گیلی لکڑی کی طرح اندر ہی اندر سلگتی رہتی ہے۔
ان کا صرف ایک شعری مجموعہ ’’کلام‘‘ کے نام سے 1975 میں احمد ندیم قاسمی نے ادارہ فنون سے شایع کیا۔ احمد ندیم قاسمی اطہر نفیس کی نہ صرف بہت عزت کرتے تھے بلکہ ان کی شاعری کے بھی بڑے مداح تھے۔ اطہر نفیس کی شہرت کے لیے در در نہ بھٹکنا اور ہر صاحب اقتدار کی چوکھٹ پہ ماتھا نہ ٹیکنا یقینا قاسمی کے لیے حیران کن رہا ہوگا۔ اسی لیے وہ ان کی اتنی عزت کرتے تھے۔ سہ ماہی ادبی جریدے ’’سیپ‘‘ نے اپنے ایک شمارے میں اطہر نفیس کی شاعری پر ایک خصوصی مطالعہ ضرور شامل کیا تھا۔ مضمون لکھنے والوں میں عبیداللہ علیم، ساقی فاروقی اور جناب سلیم احمد شامل تھے۔
21 نومبر 1980کو اطہر نفیس نے ذات کی تنہائی سے نجات پالی۔
انٹرنیٹ اور فیس بک کو دعا دیجیے کہ اس کی بدولت دوست احباب ان کی سالگرہ اور یوم وفات پہ انھیں یاد کرلیتے ہیں۔ ورنہ تو شاید ہی کبھی کسی آرٹس کونسل، انجمن ترقی اردو یا کسی اور ادارے نے انھیں یاد کیا ہو ۔ البتہ اگر کسی ادارے نے کبھی کوئی محفل سجائی ہو تو مجھے بھی خبر دے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل جب وہ بہت بیمار تھے تو اپنے احباب میں یہ مشہور کردیا تھا کہ وہ اندرون سندھ جا رہے ہیں تاکہ وہ عیادت کے لیے آنے پر مجبور نہ ہوں۔
———-
یہ بھی پڑھیں : میری آنکھوں سے وہ آنسو جدا ہونے نہیں دیتا
———-
آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہونے سے پہلے یہ شعر کہا تھا:
———-
چاروں سمت سمندر ہے
پانی سر سے اوپر ہے
———-
اطہر نفیس ایک ایسے خوددار شاعر اور انا پرست انسان تھے جو ’’مشہوری‘‘ کے لیے کسی لفافے کا محتاج تھا نہ ہی کسی ادبی دربار میں مسند نشیں کے لیے راگ درباری گا کر بیرون ملک مشاعروں میں دوروں کا دعوت نامہ حاصل کرنا پسند کرنا تھا۔ جیساکہ آج کل بڑی باریکی سے ہو رہا ہے۔ ادبی ادارے ہائی جیک ہوچکے ہیں۔ سفارشی کلچر کے پروردہ، قصیدہ نگار، شہرت کے لیے خود کو سستے داموں بک جانے والوں نے باعزت اور جینوئن شعرا، ادبا اور فنکاروں کے لیے راستے بند کردیے ہیں۔ اسی لیے ہر طرف رنگ برنگی ساڑھیاں، آنچل اور تھری پیس سوٹ ’’آرٹ لورز‘‘ کا قبضہ ہے۔ بہرحال یہ ہولناکی تو بہت بڑھ چکی ہے۔ اطہر نفیس کا ذکر خیر ان کے کچھ اشعار میں۔
———-
دروازہ کھلا ہے کہ کہیں لوٹ نہ جائے
اور اس کے لیے جو کبھی آیا نہ گیا ہو
———-
میں اس کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہر سو
جو مجھ سے کہہ سکے‘ میں بے وفا ہوں
———-
اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا
———-
میرے ہونٹوں کا تبسم دے گیا دھوکا تجھے
تو نے مجھ کو باغ جانا دیکھ لے صحرا ہوں میں
———-
لمحوں کا عذاب سہہ رہا ہوں
میں اپنے وجود کی سزا ہوں
———-
زخموں کے گلاب کھل رہے ہیں
خوشبو کے ہجوم میں کھڑا ہوں
———-
کسی صحرا میں بچھڑ جائیں گے سب یار مرے
کسی جنگل میں بھٹک جائے گا لشکر میرا
———-
نہ منزل ہوں‘ نہ منزل آشنا ہوں
مثال برگ اڑتا پھر رہا ہوں
———-
وہ ایسا کون ہے جس سے بچھڑ کر
خود اپنے شہر میں تنہا ہوا ہوں
———-
منتخب کلام
———-
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا
———-
کسی نا خواندہ بوڑھے کی طرح خط اس کا پڑھتا ہوں
کہ سو سو بار اک اک لفظ سے انگلی گزرتی ہے
———-
اطہرؔ تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا
کوئی نیا احساس ملا یا سب جیسا احوال ہوا
———-
اک شکل ہمیں پھر بھائی ہے اک صورت دل میں سمائی ہے
ہم آج بہت سرشار سہی پر اگلا موڑ جدائی ہے
———-
دروازہ کھلا ہے کہ کوئی لوٹ نہ جائے
اور اس کے لیے جو کبھی آیا نہ گیا ہو
———-
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا
اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے، تا دیر اسے دہرائیں کیا
وہ زہر جو دل میں اتار لیا، پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا
اک آگ غمِ تنہائی کی، جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو، پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں، یہ شمعیں بجھنے والی ہیں
ہم خود بھی کسی سے سوالی ہیں، اس بات پہ ہم شرمائیں کیا
ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے، ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
بے جذبۂ شوق سنائیں کیا، کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا
———-
یہ بھی پڑھیں : حسن و جمالِ روضہء اطہر نظر میں ہے
———-
اطہرؔ تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا
کوئی نیا احساس ملا یا سب جیسا احوال ہوا
ایک سفر ہے وادئ جاں میں تیرے درد ہجر کے ساتھ
تیرا درد ہجر جو بڑھ کر لذت کیف و صال ہوا
راہ وفا میں جاں دینا ہی پیش رؤں کا شیوہ تھا
ہم نے جب سے جینا سیکھا جینا کار مثال ہوا
عشق فسانہ تھا جب تک اپنے بھی بہت افسانے تھے
عشق صداقت ہوتے ہوتے کتنا کم احوال ہوا
راہ وفا دشوار بہت تھی تم کیوں میرے ساتھ آئے
پھول سا چہرہ کمہلایا اور رنگ حنا پامال ہوا
———-
وہ دور قریب آ رہا ہے
جب داد ہنر نہ مل سکے گی
اس شب کا نزول ہو رہا ہے
جس شب کی سحر نہ مل سکے گی
پوچھو گے ہر اک سے ہم کہاں ہیں
اور اپنی خبر نہ مل سکے گی
آساں بھی نہ ہو گا گھر میں رہنا
توفیق سفر نہ مل سکے گی
خنجر سی زباں کا زخم کھا کے
مرہم سی نظر نہ مل سکے گی
اس راہ سفر میں سایہ افگن
اک شاخ شجر نہ مل سکے گی
جاؤ گے کسی کی انجمن میں
پر اس سے نظر نہ مل سکے گی
اک جنس وفا ہے جس کو ہر سو
ڈھونڈو گے مگر نہ مل سکے گی
سیلاب ہوس امڈ رہا ہے
اک تشنہ نظر نہ مل سکے گی
———-
رونق بیش و کم کس کے ہونے سے ہے
موسم خشک و نم کس کے ہونے سے ہے
کس کا چہرا بناتی ہیں یہ ساعتیں
وقت کا زیر و بم کس کے ہونے سے ہے
کون گزرا کہ بنتے گئے راستے
راہ کا پیچ و خم کس کے ہونے سے ہے
کس کی خاطر دریچوں سے آئی ہوا
یہ فضا یوں بہم کس کے ہونے سے ہے
شاخ در شاخ پتوں کی یہ زندگی
آج بھی محترم کس کے ہونے سے ہے
موت برحق ہے کس کے نہ ہونے سے آج
زندگی دم بہ دم کس کے ہونے سے ہے
کس کی زلفوں کا اعجاز ہے بوئے گل
یہ ہواؤں میں نم کس کے ہونے سے ہے
صبح شادابئ جاں کا کیوں ہے ملال
عشرت شام غم کس کے ہونے سے ہے
وحشت دل کو کس نے سنبھالا دیا
یہ جنوں کم سے کم کس کے ہونے سے ہے
کس سے منسوب ہے ہر جفا ہر وفا
یہ ستم یہ کرم کس کے ہونے سے ہے
———-
نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں
میں ایک عرصہء بے رنگ کے حصار میں ہوں
سپاہ غیر نے کب مجھ کو زخم زخم کیا
میں آپ اپنی ہی سانسوں کے کار زار میں ہوں
کشاں کشاں جسے لے جائیں گے سر مقتل
مجھے خبر ہے کہ میں بھی اسی قطار میں ہوں
شرف ملا ہے کہاں تیری ہمرہی کا مجھے
تو شہسوار ہے اور میں تیرے غبار میں ہوں
اتا پتا کسی خوشبو سے پوچھ لو میرا
یہیں کہیں کسی منظر کسی بہار میں ہوں
میں خشک پیڑ نہیں ہوں کہ ٹوٹ کر گر جاؤں
نمو پزیر ہوں اور سرو شاخسار میں ہوں
نہ جانے کون سے موسم میں پھول مہکیں گے
نہ جانے کب سے تری چشم انتظار میں ہوں
ہوا ہوں قریۂ جاں میں کچھ اس طرح پامال
کہ سر بلند ترے شہر زر نگار میں ہوں
———-
ہم بھی بدل گئے تری طرز ادا کے ساتھ ساتھ
رنگ حنا کے ساتھ ساتھ شوخئ پا کے ساتھ ساتھ
نکہت زلف لے اڑی مثل خیال چل پڑی
چلتا ہے کون دیکھیے آج حنا کے ساتھ ساتھ
اتنی جفا طرازیاں اتنی ستم شعاریاں
تم بھی چلے ہو کچھ قدم اہل وفا کے ساتھ ساتھ
وحشت درد ہجر نے ہم کو جگا جگا دیا
نیند کبھی جو آ گئی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ ساتھ
ہوش اڑا اڑا دیئے راہ کے اضطراب نے
نکہت گل چلی تو تھی باد صبا کے ساتھ ساتھ
———-
یہ بھی پڑھیں : تہنیت بر زیارتِ حرمین
———-
ایک شام
اس نئے پارک میں
بنچ پر بیٹھتے بیٹھتے
اس نے مجھ سے کہا
’’آئیے بیٹھئے!‘‘
اور میں ۔۔۔ جانے کیا سوچ کر
اس سے دامن کشاں
اپنے گھر آ گیا
اپنے گھر آ گیا
میرے سینےمیں ایسا کوئی دل نہیں
جو محبت میں تقسیم ہوتا رہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ