اردوئے معلیٰ

میں چھوڑ آیا ہوں آنکھیں دیارِ طیبہ میں

 

میں چھوڑ آیا ہوں آنکھیں دیارِ طیبہ میں

کہ چاشنی ہے الگ سی خمارِ طیبہ میں

 

یہ سلسبیلِ جناں مہر و ماہ و باغِ ارم

قلم بھی لوح بھی سب ہیں حصارِ طیبہ میں

 

یہاں ہے باغِ عدن حجرۂ نبی و بقیع

چھپی ہیں برکتیں تب ہی غبارِ طیبہ میں

 

ہے ان کے اذن پہ موقوف میرا رختِ سفر

یہ دل ہے کب سے طواف و سیارِ طیبہ میں

 

رہے دریچۂ دل میں یہ باغِ ہجر ہرا

میں محو نعت ہوں بس انتظارِ طیبہ میں

 

یہ آرزو ہے کہ سرکار آپ کی مدحت

سناؤں صحنِ حرم میں پھوارِ طیبہ میں

 

بہ فیضِ نعت ہے منظرؔ گدا مدینے کا

سنبھالے بیٹھا ہے کاسہ جوارِ طیبہ میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ