نامور شاعر اصغر گونڈوی کا یومِ وفات

آج نامور شاعر اصغر گونڈوی کی برسی ہے ۔

اصغر گونڈویآپ ایک صوفیِ باصفا تھے اور کلام میں بھی تصوف کی چاشنی بدرجہ اتم موجود ہے۔ علامہ اقبال انکی شاعری کی بہت تعریف فرماتے تھے اور مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ اگر اردو شاعری کو ایک اکائی فرض کیا جائے تو آدھی شاعری صرف اصغر گونڈوی کی ہے۔
اصغر گونڈوی یکم مارچ 1884ء کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام اصغر حسین تھا۔ آبائی وطن گورکھ پور تھا تاہم گونڈہ میں مستقل قیام کے باعث گوندوی کہلانے لگے۔
وہ جدید اردو غزل کے معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا شمار ان غزل گو شعرا میں ہوتا جنہوں نے تغزل میں تصوف کو سمو کر اپنا ایک منفرد رنگ پیدا کیا۔ان کے کلام کے دو مجموعے نشاط روح اور سرود زندگی ہیں
اصغر حسین کے والد منشی تفضل حسین 1882ء میں بسلسلہ ملازمت گونڈہ آۓ ۔ وہ یہاں صدر قانون گو تھے۔ اصغرؔ کے والد عربی اور فارسی میں اچھی لیاقت رکھتے تھے۔خصوصاۤ فارسی کا مطالعہ بیحد وسیع تھا ۔ گھر میں فارسی کتابوں کا اچھا ذخیرہ تھا ۔ ان کے علاوہ کتب دینیات اور اردو کی طویل داستانیں بھی تھیں ۔ منشی تفضل حسین قدیم مشرقی تہزیب و تمدن کا نمونہ تھے۔
اصغر گونڈوی کی تعلیم کی ابتدا اس وقت کے دستور کے مطابق مکتب سے ہوئی اور اردو عربی میں انہوں نے خاصی مہارت حاصل کر لی ۔ اس کے بعد انگریزی تعلیم کے لیے گورنمنٹ اسکول گونڈہ میں داخل ہوۓ ۔ 1904ء میں مڈل کا امتحان پاس کیا۔ اصغر گونڈوی اس دوران عربی اور فارسی کی کتابیں گھر پر اپنے والد سے پڑھا کرتے تھے ۔ مڈل کے بعد انٹر پڑھ رہے تھے کہ 1906ء میں انگریزی تعلیم کا سلسلہ والد کی ایماء سے ختم کر دینا پڑا۔ تاکہ ملازمت اختیار کریں، اس زمانے میں متوسط طبقے میں لڑکوں کے لیے اتنی انگریزی پڑھ لینا روزی کمانے کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : چرواہا
۔۔۔۔۔۔
اس دوران اصغر گونڈوی کی ملاقات ریلوے ہیڈ کوراٹر کے بڑے دفتر میں بابو راج بہادر نامی کائستھ ہیڈ کلرک سے ہوئی۔ یہ صاحب بڑے تیز طرار ، چلتے پرزے ، عیاش ، شرابی اور رنگین مزاج انسان تھے اور اپنی انگریزی دانی کے لیے سارے ڈویژن میں مشہور۔ انگریزی حکام میں بہت بااثر و مقبول تھے۔اس پر طرہ یہ کہ اردو فارسی شعر و ادب سے بھی روشناس تھے ۔ بابو بہادر راج بہادر اصغرؔ کی برجستہ گفتگو ، ذہانت، ذکاوت اور بذلہ سنجی سے کافی متاثر ہوۓ اور اپنے ڈھب کا دلسچپ و کار آمد سمجھ کر حکام سے کہہ کر اصغرؔ کو بہس روپے ماہوار پر ریلوے ٹائم کیپر مقرر کرا دیا۔ اسی دوران اصغرؔ نے اپنے ذاتی مطالعہ اور ذہن رسا کی مدد سے نہ صرف اردو فارسی میں اچھی استعداد اور لیاقت پیدا کر لی بلکہ اپنے۔پو۔1 کے شریف اور شفیق اینگلو انڈین استاد (جن کا نام نہیں ملتا) کی مدد سے انگریزی ادبیات سے کچھ آشنا ہو گۓ۔یہ اینگلو انڈین اصغرؔ کے شوق تحصیل علم کی قدر کرتا تھا۔ اصغرؔ کی انگریزی سے واقفیت اسی کی تعلیم اور صحبت کا نتیجہ ہے۔ ہوتے ہوتے اصغرؔ نے انگریزی میں اتنی قابلیت حاصل کر لی کہ جب وہ انگریزی کے کسی مضمون کا ترجمہ اردو میں کرتے تو رواں دواں ہوتا۔اور اصغرؔ کی یہی لیاقت ہندوستانہ اکیڈمی کے سہ ماہی رسالہ "ہندوستانی” کے شعبہ اردو کے ایڈیٹر کے انتخاب میں کام آئی۔
بابو راج بہادر جنہوں نے ملازمت دلوائی تھی ان سے گھل مل گۓ تھے ۔یہی دوستی آخر یہ رنگ لائی کہ اصغر گونڈوی بلا کے مے نوش انسان بن گۓ مگر چوں کہ خدا نے ان کی ذات میں کچھ اور ہی صلاحتیں ودیعت کر دی تھیں ۔ خدا کو ان سے کچھ اور ہی کام لینا تھا ۔ اس لیے پانچ سال کی مے نوشی کے بعد اصغرؔ نے اچانک توبہ کر لی اور ساتھ ہی راج بہادر کی رفاقت ،ان کے حلقہ شبینہ کی شرکت اور ریلوے ملازمت سب پر لات مار کر گھر جا بیٹھے۔
اصغر گونڈوی کی پہلی شادی موضع شاہ پور میں قاضی صاحبان کے ایک خاندان میں ہوئی تھی ۔ شاہ پور قصبہ نواب گنج ضلع گونڈہ کے مضافات میں دریاۓ سرجو کے کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ اس بیوی سے دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ پہلی بیوی سے کسی باعث کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ اور وہ مدت العمراصغر گونڈوی کے والد کے ساتھ رہیں۔ 1932ء میں ان کا انتقال ہوا۔ باعثت کشیدگی کسی نے پوچھا تو یہی کہہ کر ٹال دیا کہ میاں بیوی کے معاملے میں دوسروں کو دخل نہ دینا چاہیۓ۔
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : پروفیسر اصغر سودائی کا یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔1912ء کے موسم سرما کی ایک تاریخی شب تھی جب کنور صاحب کے یہاں محفل جمی تھی۔ خیامؔ کے ” فلسفہ شراب” اور اقبالؔ کے "اسرار خودی” اور ” رموز بے خودی” پر اصغر گونڈوی سے گفتگو چھڑی ہوئی تھی اور وہ حسب معمول اپنے انداز عالمانہ میں اقبالؔ کے فلسفے کے نکات بیان کر رہے تھے ۔ اور اس پر عبور حاصل کرنے کے لۓ طہارت نفس کو شرط اولین قرار دے رہے تھے۔ بیان کرتے کرتے جب ان پر عجیب سی ماروائیت کا عالم طاری ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی ۔۔۔۔ خواب گراں سے یکایک جاگ پڑا ہو ۔ نگاہ کے سامنے کوئی پردہ ہٹ جاۓ۔ اسی اثناء میں ان کے سامنے جامِ شراب آ گیا ۔ اصغرؔ نے آبدیدہ ہو کر جام اُٹھایا اور لوگوں کو مخاطب کر کے رقت آمیز لہجہ میں کہا ۔ دوستو گواہ رہنا! اصغرؔ کا یہ آخری جامِ شراب ہے ۔ آج سے وہ مۓ نوشی سے توبہ کرتا ہے اور خدا اسے معاف کرے اور اپنے عہد پر استقامت کی توفیق عطا فرماۓ ۔
ان کی اس توبہ پر دوستوں نے بڑآ قہقہ لگایا اور اصغرؔ کے اس عہد کو ایک وقتی کیفیت اور تفریح مذاق سمجھتے تھے ۔ لیکن حقیقت ہے کہ اصغرؔ نے پھر اس محفل میں قدم نہیں رکھا اور اپنے عہد کی پابندی کے لے سجدہ نیاز میں رو رو کر بارگاہ خدا وندی میں توبہ استغفار کرتے رہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہی دنوں بی چھٹن جن سے اصغرؔ کا معاشقہ چل رہا تھا اس سے بھی ملنا ترک کر دیا مگر بی چھٹن چونکہ خلوصِ دل سے اصغرؔ کی گرویدہ تھی اور شادی کے لۓ اصرار کرتی تھی ۔ ان کے دیدار کے لۓ ماری ماری پھرنے لگی ۔ آخر نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ کسی دن اصغرؔ کا سامنا نہ ہوتا تو چھٹن مسجد کے دروازے پر کھڑی ہو جاتی اور اصغرؔ کے دیدار کے لۓ چشم براہ ہوتی ۔ جہاں وہ بالعموم نماز ادا کرتے تھے۔ چھٹن سے سے چھٹکارہ کے لۓ اصغرؔ نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر چھٹن مع خاندان تائب ہو جاۓ تو وہ ان سے نکاح کر سکتے ہیں ۔ اصغرؔ کے قول کے مطابق چھٹن مع خاندان تائب ہو کر ان کے نکاح میں آ گئی ۔ اس طرح اصغرؔ کی دوسری شادی اور زندگی کا نیا موڑ شروع ہوا۔
———-
چھٹن اولاد کی خواہشمند تھی مگر اس کی یہ آرزو پوری نہ ہوئی۔ تب اس نے اصغرؔ سے تقاضہ کیا کیا کہ وہ اسے طلاق دے کر اس کی بہن نسیم سے جو جگرؔ کی مطلقہ تھیں سے شادی کر لیں ۔ تاکہ چھٹن کا اولاد کا ارمان پورا ہو سکے ۔قیام لاہور کے دوران 1927ء میں جب اصغرؔ کا عہد پیری شروع ہو چکا تھا چھٹن نے بڑی شدومد سے اپنی اسی خواہش کا اظہار کیا ۔ وہ اولاد نہ ہونے کے غم میں گھلی جا رہی تھی ۔ اپنے اس کوشش کو بے نتیجہ دیکھ کر کھانا پینا ترک کر دیا ۔ اصغرؔ بڑے رقیق القلب انسان تھے وہ اس حربے کی تاب لا نہ سکے ۔ مجبوراۤ چھٹن کو طلاق دے کر نسیم یعنی مطلقہ بیگم جگرؔ سے عقد کر لیا ۔ مگر چھٹن آخری دم تک اصغرؔ کے ساتھ رہی ۔ ان کی خدمت گزاری بدستور کرتی رہی اس عظیم قربانی کے باوجود قدرت کو منظور نہیں تھا کہ ان کی اولاد کی تمنا پوری ہوتی ۔
———-
اصغر گونڈوی بلڈ پریشر کے مریض تھے۔ 1934ء کو ان پر فالج کا حملہ ہوا اس سے صحتیاب ہو گۓ ۔ مگر 30 نومبر 1936ء کو الٰہ آباد میں پھر ان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا اور اس دفعہ فالج کا تیسرا حملہ جان لیوا ثابت ہوا ۔ اس حملے نےاصغر گونڈوی کو سنبھلنے کی مہلت نہ دی اصغرؔ کا انتقال ماہ رمضان کے دوسرے عشرہ میں ہوا۔
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : فاطمہ ، حیدر پہ جاں قربان ہو
۔۔۔۔۔۔
اصغرؔ کی وصیت کے مطابق انہیں دائرہ حضرت شاہ محب اللہ الٰہ آبادی میں دفن کیا گیا ۔
———-
منتخب کلام
———-
نعت حضُور سَرورِ کائنات صَلّیَ الله علیہ وسَلّم
———-
کچھ اور عشق کا حاصل نہ عشق کا مقصود
جزانیکہ لطفِ خلشائے نالۂ بے سُود
مگر یہ لُطف بھی ہے کچھ حجاب کے دم سے
جو اُٹھ گیا کہیں پردہ تو پھر زیاں ہے نہ سُود
ہلائے عشق نہ یُوں کائناتِ عالم کو
یہ ذرے دے نہ اُٹھیں سب شرارۂ مقصود
کہو یہ عشق سے چھیڑے تو سازِ ہستی کو
ہرایک پردہ میں ہے نغمہ "ہوالموجُود ”
یہ کون سامنے ہے؟ صاف کہہ نہیں سکتے
بڑے غضب کی ہے نیرنگی طلسمِ نمُود
اگرخموش رہوں میں، تو تُو ہی سب کچھ ہے
جو کچھ کہا، تو تِرا حُسْن ہوگیا محدُود
جو عرض ہے، اُسے اشعار کیوں مِرے کہیئے
اُچھل رہے ہیں جگر پارہ ہائے خُوں آلوُد
نہ میرے ذوقِ طلب کو ہے مدّعا سے غرض
نہ گامِ شوق کو پروائے منزلِ مقصُود
مِرا وجُود ہی خود انقیاد و طاعت ہے
کہ ریشہ ریشہ میں ساری ہے اِک جبِینِ سجُود
———-
پھر میں نظر آیا، نہ تماشا نظر آیا
جب تُو نظر آیا مجھے تنہا نظر آیا
اللہ رے دیوانگئ شوق کا عالم
اک رقص میں ہر ذرّہ صحرا نظر آیا
اُٹھّے عجب انداز سے وہ جوشِ غضب میں
چڑھتا ہُوا اِک حُسْن کا دریا نظر آیا
کس درجہ تِرا حُسْن بھی آشوبِ جہاں ہے
جس ذرّے کو دیکھا، وہ تڑپتا نظر آیا
اب خود تِرا جلوہ جو دکھا دے، وہ دکھا دے
یہ دیدۂ بِینا تو تماشا نظر آیا
تھا لُطفِ جنُوں دیدۂ خُوں نابہ فشاں سے
پُھولوں سے بھرا دامنِ صحرا نظر آیا
———-
مستی میں فروغِ رُخِ جاناں نہیں دیکھا
سُنتے ہیں بہار آئی، گلِستاں نہیں دیکھا
زاہد نے مِرا حاصلِ ایماں نہیں دیکھا
رُخ پر تِری زُلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا
آئے تھے سَبھی طرْح کے جلوے مِرے آگے
میں نے مگر اے دیدۂ حیراں نہیں دیکھا
اِس طرْح زمانہ کبھی ہوتا نہ پُرآشوب
فِتنوں نے تِرا گوشۂ داماں نہیں دیکھا
ہرحال میں بس پیشِ نظر ہے وہی صُورت
میں نے کبھی رُوئے شبِ ہِجراں نہیں دیکھا
کچھ دعوَئ تمکِیں میں ہے معذُور بھی زاہد!
مستی میں تجھے چاک گریباں نہیں دیکھا
رُودادِ چمَن سُنتا ہُوں اِس طرْح قفَس میں!
جیسے کبھی آنکھوں سے گلستاں نہیں دیکھا
مجھ خستہ و مہجُور کی آنکھیں ہے ترستی
کب سے تجھے اے سَرْوِ خراماں نہیں دیکھا
کیا کیا ہُوا ہنگامِ جنُوں، یہ نہیں معلوم !
کچھ ہوش جو آیا تو گریباں نہیں دیکھا
شائستۂ صُحبَت کوئی اُن میں نہیں اصغر
کافر نہیں دیکھے کہ مُسلماں نہیں دیکھا
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : اے سرور دیں! سید ابرار ! اغثنی
۔۔۔۔۔۔
عشوؤں کی ہے، نہ اُس نگہِ فتنہ زا کی ہے!
ساری خطا مِرے دلِ شورش ادا کی ہے
مستانہ کررہا ہُوں رہِ عاشقی کو طے
کچھ اِبتدا کی ہے، نہ خبر اِنتہا کی ہے
کھِلتے ہی پُھول باغ میں پژمردہ ہو چلے
جُنْبِش رگِ بہار میں موجِ فنا کی ہے
ہم خستگانِ راہ کو راحت کہاں نصیب !
آواز کان میں ابھی بانگِ درا کی ہے
ڈُوبا ہُوا سکوت میں ہے جوشِ آرزو
اب تو یہی زبان مِرے مُدّعا کی ہے
لُطفِ نہانِ یار کا مُشکل ہے اِمتیاز
رنگت چڑھی ہوئی ستمِ برملا کی ہے
———-
اُس کا وہ قدِ رعنا اُس پر وہ رُخِ رنگیں
نازک سا سرِ شاخ اِک گویا گُلِ تردیکھا
تم سامنے کیا آئے، اِک طرفہ بہار آئی
آنکھوں نے مِری گویا فردوسِ نظردیکھا
ہر ذرّے میں صحرا کے بے تاب نظرآئی
لیلیٰ کو بھی مجنُوں نے یُوں خاک بسردیکھا
مستی سے تِرا جلوہ خود غرضِ تماشا ہے
آشفتہ مِزاجوں کا یہ کیفِ نظر دیکھا
ہاں وادئ ایمن کے معلوم ہیں سب قصّے
موسیٰ نے فقط اپنا اِک ذوقِ نظردیکھا
———-
ترے جلووں کے آگے ہمّتِ شرح و بیاں رکھ دی
زبانِ بے نِگہ رکھ دی، نِگاہِ بے زباں رکھ دی
مِٹی جاتی تھی بُلبُل جلوۂ گُلہائے رنگیں پر
چُھپا کر کِس نے اِن پردوں میں برقِ آشیاں رکھ دی
نیازِ عِشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظِ ناداں !
ہزاروں بن گئے کعبے، جبِیں میں نے جہاں رکھ دی
قفس کی یاد میں، یہ اِضطرابِ دل، معاذ اللہ !
کہ میں نے توڑ کر ایک ایک شاخِ آشیاں رکھ دی
کرشمے حُسن کے پنہاں تھے شاید رقصِ بِسمِل میں
بہت کچھ سوچ کر ظالم نے تیغِ خُوں فشاں رکھ دی
الٰہی ! کیا کِیا تُو نے، کہ عالم میں تلاطم ہے
غضب کی ایک مُشتِ خاک زیرِ آسماں رکھ دی
———-
گرمِ تلاش و جُستجو اب ہے تِری نظر کہاں ؟
خُون ہے کچھ جما ہُوا، قلْب کہاں، جِگر کہاں؟
ہے یہ طرِیقِ عاشقی، چاہیئے اِس میں بیخودی
اِس میں چُناں چُنیں کہاں، اِس میں اگر مگرکہاں؟
زُلف تھی جو بِکھر گئی، رُخ تھا کہ جو نِکھر گیا
ہائے وہ شام اب کہاں، ہائے وہ اب سحرکہاں ؟
کیجئے آج کِس طرح، دوڑ کے سجدۂ نیاز !
یہ بھی توہوش اب نہیں، پاؤں کہاں ہے سرکہاں ؟
ہائے، وہ دن گُزر گئے جوششِ اِضطراب کے
نیند قفس میں آگئی، اب غمِ بال و پر کہاں؟
ہوش و خِرد کے پھیر میں عمرِ عزِیز صرف کی
رات تو کٹ گئی یہاں، دیکھئے ہو سحرکہاں ؟
———-
ہوش کسی کا بھی نہ رکھ جلوہ گہِ نمازمیں
بلکہ خُدا کو بُھول جا، سجدۂ بے نیاز میں
رازِ نشاطِ خُلد ہے خندۂ دِل نواز میں
غیب و شہود کے رمُوزنرگسِ نیم بازمیں
آج تو اضطرابِ شوق حد سے سوا گزر گیا
اور بھی جان پڑگئی عشوۂ جاں گدُاز میں
اِس سے زیادہ اور کیا شوخئ نقش پا کہوں؟
برق سی اِک چمک گئی آج سرِ نیاز میں
آتش گلُ سے ہرطرف دشت و چمن دہک اُٹھا
ایک شرارِ طوُر ہے خلوتیانِ راز میں
ہوش خرد کے ساتھ ساتھ جانِ حزیں بھی سوخت ہے
آگ سی ہے بھری ہوئی سینۂ نے نواز میں
پردۂ دہر کچھ نہیں، ایک ادائے شوخ ہے
خاک اُٹھا کے ڈال دی دیدۂ اِمتیازمیں
اے دلِ شوخ و حِیلہ جُو، زیرِکمینِ رنگ و بُو
طاہر قدس کو بھی لے دامگہِ مزاج میں
سب ہے ادائے بیخودی، ورنہ ادائے حُسن کیا
ہوش کا جب گزر نہیں، اُس کی حرِیم نازمیں
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : ہر حسن لازوال ہے شہرِ رسول میں
۔۔۔۔۔۔
خُدا جانے کہاں ہے اصغرِ دِیوانہ برسوں سے
کہ اُس کو ڈھونڈتے ہیں کعبہ و بُت خانہ برسوں سے
تڑپنا ہے نہ جلنا ہے، نہ جل کر خاک ہونا ہے
یہ کیوں سوئی ہُوئی ہے فِطرَتِ پروانہ برسوں سے
کوئی ایسا نہیں یا رب، کہ جو اِس درد کو سمجھے
نہیں معلوُم کیوں خاموش ہے دِیوانہ برسوں سے
کبھی سوزِ تجلّی سے اُسے نِسبت نہ تھی گویا
پڑی ہے اِس طرح خاکِسترِ پروانہ برسوں سے
تِرے قربان ساقی، اب وہ موجِ زندگی کیسی
نہیں دیکھی ادائے لغزشِ مستانہ برسوں سے
مِری رِندی عجب رِندی، مِری مستی عَجب مستی
کہ سب ٹُوٹے پڑے ہیں شیشہ و پیمانہ برسوں سے
حسِینوں پر نہ رنگ آیا، نہ پُھولوں میں بہار آئی
نہیں آیا جو لب پر نغمۂ مستانہ برسوں سے
کھُلی آنکھوں سے ہُوں حُسنِ حقِیقت دیکھنے والا
ہُوئی لیکن نہ توفیقِ درِ بُت خانہ برسوں سے
لباسِ زُہد پر پھر کاش نذرِ آتشِ صہبا
کہاں کھوئی ہُوئی ہے جرأتِ رِندانہ برسوں سے
جسے لینا ہو آکر اُس سے اب درسِ جنُوں لے لے
سُنا ہے ہوش میں ہے اصغرِ دِیوانہ برسوں سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حمید کاشمیری کا یوم وفات
نامور شاعر ریاضؔ خیر آبادی" شاعر خمریات" کی برسی
معروف تاریخ داں اور محقق پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کا یومِ وفات
معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا یوم پیدائش
عظیم اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری کا یوم پیدائش
پنجابی زبان کی نامور شاعرہ اور افسانہ نگار امرتا پریتم کا یومِ پیدائش
معروف شاعرہ ثمینہ راجا کا یوم پیدائش
داغ دہلوی کے جانشین نوح ناروی کا یوم پیدائش
نامور افسانہ نگار اور شاعر اسد محمد خان کا یوم پیدائش
نامور ادیب پطرس بخاری کا یوم وفات

اشتہارات